مضامین

تعلیماتِ حضرت مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ العزیز

۴ نومبر ۲۰۲۶ء · مولانا ضیاء الرحمن علیمی · مضمون
تعلیماتِ حضرت مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ العزیز
مولانا ضیاء الرحمن علیمی ۴ نومبر ۲۰۲۶ء مطالعے کا وقت: ۱۵ منٹ
معرفتِ الٰہی ایمان کی روح اور بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے

مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ العزیز آٹھویں صدی ہجری کے اواخر اور نویں صدی ہجری کے اوائل کے بڑے صوفیہ میں ہیں۔ آپ کا شمار ہندوستان کے ان صوفیہ میں ہے جو علم و عمل، شریعت و طریقت، تعلیم و تربیت، معرفت و حقیقت کے جامع رہے ہیں۔

آپ کے ملفوظات کا مجموعہ لطائف اشرفی جسے ان کے خلیفہ حضرت نظام یمنی نے ترتیب دیا ہے حقائق و معارف کا گنجینہ ہے، کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سالکین کے لیے مربی، مریدین کے لیے مرشد اور گمراہوں کے لیے ہادی و رہنما ہے۔

ذیل میں ہم اسی کتاب سے حضرت مخدوم سمنانی قدس سرہ کی چند تعلیمات کو نقل کرتے ہیں:

توحید

توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا محور ہے۔ بندے کی ظاہری و باطنی زندگی اسی وقت سنورتی ہے جب اس کا دل ہر قسم کے شرکِ جلی و خفی اور غیر اللہ کی محبت سے پاک ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ایک ہے۔ (الإخلاص: ۱)، ایک اور مقام پر فرمایا: فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (محمد: ۱۹)۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أفضل مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، سب سے افضل کلمہ جو میں نے اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء نے کہا، وہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ہے۔ (جامع ترمذی)

بندہ جب اسی توحید کا اقرار کر لیتا ہے تو وہ دل و جان سے اس بات کو تسلیم کر لیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی اس کا حقیقی مالک نہیں، حاکم نہیں اور مطاع حقیقی نہیں۔ اس کا مطلوب و مقصود بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہی اس کا محبوب حقیقی بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا ہر عمل اللہ کے لیے، اس کا ہر قدم خالق کائنات کے لیے اور اس کا ہر ارادہ رب تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو رب تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنا لیتا ہے اور اس طرح وہ توحید کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔

توحید کی اسی حقیقت کو حضرت مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ العزیز ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: التوحيد فناء العاشق في صفات المحبوب۔ (لطائفِ اشرفی، لطیفہ اولی)

توحید یہ ہے کہ رب تعالیٰ سے محبت کرنے والا اپنے محبوب کی صفات میں فنا ہو جائے اور اس کی صفات کا مظہر بن کر اس دنیا میں زندگی گزارے، مثلاً اس کی صفت العلیم کا مظہر بن کر عبدالعلیم بن جائے، الرزاق کا مظہر بن کر عبدالرزاق بن جائے، الرحمن کا مظہر بن کر عبدالرحمن بن جائے، الرحیم کا مظہر بن کر عبدالرحیم بن جائے اور جب ضرورت ہو تو اس کی صفت القہار اور الجبار کا مظہر بن کر عبدالقہار اور عبدالجبار بن جائے۔

معرفت

معرفتِ الٰہی ایمان کی روح اور بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتا ہے تو اس کی عبادت میں اخلاص، اس کے اخلاق میں پاکیزگی اور اس کے اعمال میں استقامت پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو۔ (الحدید: ۴)۔

رسول اللہ ﷺ نے حدیثِ احسان میں فرمایا: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔

اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت نہ ہو تو کم از کم یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (صحیح مسلم)۔

حضرت مخدوم اشرف سمنانی چونکہ خود ایک اعلیٰ درجے کے عارف و صوفی ہیں اور بحر معرفت کے شناور ہیں، اسی لیے وہ معرفت کی انتہا اور اس کے کمال کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:

نِهَايَةُ الْمَعْرِفَةِ هِيَ وِجْدَانُ الْحَقِّ بِحَيْثُ لَا يَنْفَكُّ عَنْهُ كَالْبَصَارَةِ عَنِ الْبَصَرِ وَالسَّمَاعَةِ عَنِ السَّمْعِ۔ (لطائفِ اشرفی، لطیفہ دوم)

یعنی معرفت کی انتہا یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حضوری کا ایسا شعور حاصل کر لے جو اس سے کبھی جدا نہ ہو، جیسے آنکھ سے دیکھنے کی قوت جدا نہیں ہوتی اور کان سے سننے کی قوت جدا نہیں ہوتی۔

یہی کیفیت بندے کو عقائد، اعمال، اخلاق اور معاملات میں احسان، اخلاص اور قربِ الٰہی کے اعلیٰ مدارج تک پہنچاتی ہے۔ اسی کی جانب قرآن کریم میں وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ (تم جہاں کہیں بھی رہو حق تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے) سے اشارہ کیا گیا ہے اور اسی حقیقت کی طرف أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ (کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے) سے رہنمائی کی گئی ہے۔

مجاہدہ و عمل

توحید اور موحد کے اوصاف کی معرفت، حق تعالیٰ کی توحید سے آشنائی اور معرفت ذات و صفات کے بعد مجاہدہ و عمل کا نمبر آتا ہے تاکہ مقصود تک رسائی ہو سکے۔ چنانچہ مخدوم سمنانی اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مَنْ لَمْ يَعْمَلْ اكْتِسَابَ الْمُجَاهَدَةِ لَمْ يَحْصُلْ لَهُ جَنَابُ الْمُشَاهَدَةِ (لطائفِ اشرفی، لطیفہ اولی)

گویا مخدوم سمنانی نے پہلے تو یہ تلقین فرمائی کہ توحید کا کمال یہ ہے کہ بندہ اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا میں فنا کر دے اور ذات و صفات حق کی معرفت کو ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہ ہونے دے اور پھر یہ پیغام دیا کہ مقامِ یقین، معرفت و مشاہدہ، مجاہدۂ نفس، اخلاص اور مسلسل اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔

اس طرح حضرت مخدوم اشرف سمنانی نے توحید کو محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک عملی، روحانی اور وجدانی کیفیت قرار دیا ہے۔

ولایت

ولایت اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے، جو ایمان، تقویٰ، اتباعِ سنت اور مسلسل مجاہدۂ نفس کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ اولیائے کرام اللہ تعالیٰ کے وہ مقرب بندے ہیں جن کی زندگی اطاعتِ الٰہی، اخلاص اور خدمتِ خلق سے عبارت ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔ (یونس: ۶۲-۶۳)

حدیث قدسی میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل فرمایا: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ۔

جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری)

اسی مقام ولایت اور ولی کی تعریف کرتے ہوئے حضرت مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:

الْوِلَايَةُ هِيَ قِيَامُ الْعَبْدِ مَعَ الْبَقَاءِ بَعْدَ الْفَنَاءِ، وَيَتَّصِفُ بِصِفَةِ التَّمْكِينِ وَالصَّفَاءِ۔ (لطائفِ اشرفی، لطیفہ دوم)

یعنی ولایت وہ مقام ہے جہاں بندہ فنا کے بعد بقا کی کیفیت حاصل کرتا ہے اور دین پر استقامت، قلبی صفائی اور روحانی تمکین سے متصف ہو جاتا ہے۔

فنا کے بعد بقا کے مختلف معانی ہو سکتے ہیں، مثلاً یہ کہ نفسانی اور شیطانی خواہشات سے فانی ہو کر حق تعالیٰ کی رضا سے باقی ہو جائے، اور اس کی زندگی حق تعالیٰ کی اطاعت کا مظہر بن جائے، کہیں نفس و شیطان کی بندگی کا اثر نظر نہ آئے۔ البتہ حق تعالیٰ کی بندگی کے اس سفر میں سالک پر ایک حالت ایسی بھی طاری ہوتی ہے کہ جب وہ دنیا و مافیہا کے شعور و احساس سے بلکہ خود اپنے وجود کے احساس سے بھی ایسا فانی ہو جاتا ہے کہ اسے ہر طرف ربانی تجلیات کا ہی مشاہدہ ہوتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولایت کرامات کا نام نہیں بلکہ بندگی، تقویٰ اور قربِ الٰہی سے سرفراز ہونے کا نام ہے۔

مریدین کا اخلاص

احسان و تصوف کی بنیاد اخلاص ہے۔ جب تک مرید اپنے شیخ، اپنے دینی بھائیوں اور اللہ و رسول کے ساتھ مخلص نہ ہو، اس کا سلوک مکمل نہیں ہوتا۔ اخلاص سے محبت، ایثار اور اتحاد پیدا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ

وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود محتاج ہوں۔ (الحشر: ۹)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

حضرت مخدوم اشرف سمنانی حق تعالیٰ اور مخلوق کے ساتھ اپنا رشتہ اخلاص کے اصولوں پر قائم کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: مریدین میں اخلاص ایسا ہونا چاہیے کہ من و تو کی نسبت باقی نہ رہے، اگر کوئی یہ کہے کہ یہ جوتی میری ہے تو دوسرا تصدیق کرے اور اپنی ملکیت ظاہر ہونے نہ دے۔ (لطائفِ اشرفی، لطیفہ ۱۷)

یہ تعلیم جہاں بندگان خدا کے مابین باہمی محبت، ایثار، انکساری اور نفسانی دعووں سے اجتناب کا بہترین نمونہ ہے وہیں اس میں توحید کا بھی اعلیٰ سبق موجود ہے کہ بندہ جب اپنی ملکیت سے دست بردار ہو جاتا ہے تو اسی وقت وہ زبان حال سے یہ بھی اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ ساری کائنات کی حقیقی ملکیت صرف حق تعالیٰ کے پاس ہے۔

مومنِ حقیقی کے اوصاف

قرآن و حدیث میں مومن حقیقی کی متعدد صفات بیان کی گئی ہیں جن کے ذریعے ایمان کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ حقیقی ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور اعمال کی اصلاح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل خوف سے بھر جاتے ہیں، جب ان کے سامنے قرآن کریم کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے، وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے خرچ کرتے ہیں (الأنفال: ۲-۴)۔

حضرت مخدوم اشرف سمنانی مومن کی انہی پانچ صفات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ کی عظمت و جلال کی وجہ سے مومن کا دل خوف و خشیت سے لبریز ہو، قرآن سن کر ایمان میں اضافہ ہو، اللہ پر کامل توکل ہو، خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنے والا ہو اور اللہ کے عطا کردہ علم و معرفت اور دیگر نعمتوں کو دوسروں تک پہنچانے والا ہو (لطائفِ اشرفی، لطیفہ ۲۵)۔

یہ صفات دراصل قرآن و سنت میں مذکور مومنِ کامل کی عملی تصویر ہیں۔

توبہ

توبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ یہ مومن کامل بننے کی طرف پہلا قدم ہے، یہ صرف گناہوں پر ندامت کا اظہار نہیں بلکہ برائیوں کو چھوڑ کر نیکی کی زندگی اختیار کرنے کا عہد ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! تم سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: التائب من الذنب كمن لا ذنب له۔

گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ)

حضرت مخدوم اشرف سمنانی بھی اسی لیے توبہ کی تاکید فرماتے ہیں اور تنبیہ کرتے ہیں کہ توبہ صرف ایک لسانی عمل نہیں ہے بلکہ توبہ اخلاق و کردار میں مثبت تبدیلی کا نام ہے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

توبہ ناپسندیدہ افعال کو ترک کرنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کا نام ہے۔ دھوکہ، حسد، نفاق، جھوٹ، بخل، حرص، غصہ، مکاری اور غیبت سے بچنے کا نام ہے، جب کہ سخاوت، مروت، حسنِ اخلاق، تواضع اور کم آزاری اختیار کرنے کا نام ہے۔ (لطائفِ اشرفی، لطیفہ ۲۶)۔

وضوئے طریقت:

اسلام میں ظاہری طہارت کے ساتھ باطنی پاکیزگی بھی مطلوب ہے۔ جس طرح وضو جسم کو پاک کرتا ہے، اسی طرح توبہ، ذکر اور مجاہدہ دل و روح کو پاک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ: ۲۲۲)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الطهور شطر الإيمان۔ طہارت ایمان کا نصف حصہ ہے۔ (صحیح مسلم)

چنانچہ حضرت مخدوم اشرف سمنانی باطنی وضو کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وضوئے طریقت کے چار درجے ہیں:

۱۔ ظاہری اعضا کو گناہوں سے پاک کرنا،

۲۔ ذہن کو بے فائدہ خیالات سے صاف کرنا،

۳۔ دل کو وسوسوں سے پاک کرنا،

۴۔ اور روح کو ماسویٰ اللہ سے منقطع کر دینا (لطائفِ اشرفی، لطیفہ ۲۷)۔

اس مقام پر مخدوم قدس سرہ نے وضو کے جن لطائف کی نشان دہی فرمائی ہے وہ بہت اہم ہیں۔

آپ نے وضوئے طریقت کا پہلا درجہ یہ بیان فرمایا کہ نماز میں داخل ہونے سے پہلے اپنے تمام اعضا کو گناہوں سے پاک کر لیا جائے، اس حقیقت کی جانب ان چند دعاؤں سے اشارہ ملتا ہے جو اگرچہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں لیکن ہمارے اسلاف نے ان دعاؤں پر مداومت کی ہے، یہ وہ دعائیں ہیں جن میں کسی بھی عضو کو دھوتے وقت رب تعالیٰ سے یہ دعا کی گئی ہے کہ اے مولیٰ! میرے اس عضو کو گناہوں سے پاک کر دے، مثلاً چہرہ دھوتے وقت یہ دعا پڑھنا: اللهم بيض وجهي يوم تبيض وجوه وتسود وجوه۔

اے اللہ! جس دن کچھ چہرے روشن اور کچھ سیاہ ہوں گے اس دن میرے چہرے کو روشن رکھنا۔

اس طرح کی دعاؤں کا پڑھنا دراصل وضوئے طریقت کے اسی پہلے درجے پر عمل ہے جس کی مخدوم سمنانی نے تعلیم فرمائی ہے۔

وضوئے طریقت کے دوسرے درجے میں اوپر اٹھتے ہوئے ذہن و دماغ کو بے فائدہ خیالات سے بھی پاک کرنے کی تلقین کی گئی ہے، یہی وہ درجہ ہے جسے کامیاب مومن کی صفات میں وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: ۳) سے بیان کیا گیا ہے۔

تیسرے درجے میں اور بلند ہوتے ہوئے قلب و روح کو وسوسوں سے بھی پاک کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اسی کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتا ہے: وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ (المؤمنون: ۹۷)

اور کہیے: اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

چوتھے درجے میں ما سوا سے منقطع ہو کر حق تعالیٰ کی طرف لو لگانے کی جو تعلیم دی گئی ہے وہ اس آیت کریمہ میں موجود ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل: ۸)

اپنے رب کے نام کی مالا جپو اور سب سے الگ ہو کر اسی کے ہو کر رہ جاؤ۔ سالک اگر وضوئے شریعت کی پابندی کے ساتھ وضوئے طریقت کے ان درجات کا بھی پابند ہو جائے تو یقیناً وہ بارگاہ حق کا مقرب ہو جائے گا۔

وضو اور نماز کا تعلق

نماز بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے، لیکن اس تعلق کے لیے ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی طہارت ضروری ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ

بے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ (المؤمنون: ۱-۲)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مفتاح الصلاة الطهور۔ نماز کی کنجی طہارت ہے۔ (جامع ترمذی)

حضرت مخدوم اشرف سمنانی وضو اور نماز کے اس باہمی تعلق کی توضیح میں فرماتے ہیں:

الوضوء انفصال والصلاة اتصال، فمن لم يحصل له الانفصال لم يحصل له الاتصال۔ (لطائفِ اشرفی، لطیفہ ۲۷)

یعنی وضو دنیا کی آلائشوں اور گناہوں سے جدائی کا نام ہے، جبکہ نماز اللہ تعالیٰ سے تعلق اور قرب کا ذریعہ ہے۔ جب دل غیر اللہ سے پاک ہوگا تب نماز کی حقیقی روح اور لذت نصیب ہوگی۔ یہی وہ تعلیم ہے جو نماز کو محض ایک ظاہری عمل کے بجائے اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق کا ذریعہ بناتی ہے۔

خاتمہ

حضرت مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ العزیز کی درج بالا تعلیمات کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی عملی تشریح ہے۔ آپ نے توحید، معرفت، ولایت، اخلاص، توبہ، تزکیۂ نفس اور حسنِ اخلاق جیسے بنیادی اسلامی تصورات کو نہایت جامع، مؤثر اور روح پرور انداز میں بیان فرمایا۔ آپ کے ملفوظات میں نہ صرف شریعت کی پاسداری کا درس ملتا ہے بلکہ باطن کی اصلاح، قلب کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی تلقین بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

حضرت مخدوم اشرف سمنانی کی تعلیمات کا امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کو محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اس کے ظاہر اور باطن، عقیدے اور عمل، عبادت اور اخلاق، نیز بندگی اور انسان دوستی کے درمیان حسین توازن پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی خانقاہ نے صدیوں تک روحانی تربیت، اصلاحِ معاشرہ، محبت، رواداری اور خدمتِ خلق کا فریضہ انجام دیا اور آج بھی آپ کی تعلیمات اہلِ حق کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔

موجودہ دور، جو مادیت، اخلاقی زوال، انتشار اور روحانی بے چینی کا دور ہے، اس میں حضرت مخدوم اشرف سمنانیؒ کی تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر ان تعلیمات کو ان کے اصل قرآنی اور نبوی پس منظر کے ساتھ سمجھا اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے تو افراد کے کردار کی تعمیر، معاشرے کی اصلاح، باہمی اخوت کے فروغ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ یہی حضرت مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ العزیز کے افکار و تعلیمات کا حقیقی پیغام اور ان کی دائمی اہمیت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دینی احکام پر عمل کی توفیق بخشے، اسرار دین کی معرفت عطا کرے اور دین کو ہمارے قلب و روح کی چاشنی بنا دے۔ آمین

گفتگو میں شامل ہوں

تبصرے

تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔

اے سی این اے کی معاونت

ایمان، علم اور خدمت کو فروغ دیں

آپ کی معاونت عبادت، تعلیم، علمی تحقیق، روحانی ثقافت اور ہمدردانہ سماجی خدمت کو مضبوط بناتی ہے۔

معاونت کریں