شعراء

اردو اور صوفیانہ شاعری کے ممتاز شعراء، ان کا تعارف اور منتخب کلام۔

امیر خسرو دہلوی شاعر

شاعر کا تعارف

امیر خسرو دہلوی

امیر خسرو دہلوی (۶۰۵ھ/۱۲۵۳ء – ۷۲۵ھ/۱۳۲۵ء) ’’طوطیٔ ہند‘‘ کے لقب سے مشہور صوفی شاعر، موسیقار اور ادیب تھے۔ آپ پٹیالی، ضلع ایٹہ (ہند) میں سیف الدین محمود کے گھر پیدا ہوئے۔ ۱۵ سے ۲۰ برس کی عمر میں تمام درسی علوم سے فراغت پائی اور شاعری کی طرف طبعی میلان کے باعث فارسی سخن گوئی میں وہ کمال حاصل کیا جس پر آج بھی فخر کیا جاتا ہے۔ امیر خسرو فنِ موسیقی میں بھی یکتائے زمان تھے اور کئی نئے راگ ایجاد کیے۔ آپ کو صوفی خانقاہ سے لے کر سلاطین کے دربار تک یکساں مقبولیت حاصل رہی۔ آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے نہایت قریبی مرید اور محبوب تھے اور ان سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ آپ کی تصانیف میں دیوان تحفۃ الصغر، دیوان وسط الحیات، غرۃ الکمال، نہایۃ الکمال، مثنوی قران السعدین، خمسۂ نظامی اور افضل الفوائد خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ۷۲۵ھ/۱۳۲۵ء میں دہلی میں وصال فرمایا اور اپنے مرشد حضرت خواجہ نظام الدین اولیا دہلوی کے قدموں میں مدفون ہوئے۔

۰ کلام

امیر خسرو دہلوی کا کلام

اے سی این اے کی معاونت

ایمان، علم اور خدمت کو فروغ دیں

آپ کی معاونت عبادت، تعلیم، علمی تحقیق، روحانی ثقافت اور ہمدردانہ سماجی خدمت کو مضبوط بناتی ہے۔

معاونت کریں