اِس مضمون میں ’فکری نرگسیت/عالمانہ خودستائی‘ کی اصطلاح کسی طبی تشخیص کے طورپر نہیں،بلکہ اخلاقی اور سماجی کیفیت کے طورپر اِستعمال ہوئی ہے
۔ اندھی عقیدت و تقلید:بلاشبہ ایک مذہبی اسکالر اپنے عمل کا آغاز تحقیق و مطالعے کے سچے جذبے سے کر سکتا ہے، جیسے کہ مقدس کتابوں کی تلاوت و فہم، روایات وا خبار کی جرح وتعدیل، دلائل کا باہمی موازنہ اور اپنی جماعت ومعاشرے کی رہنمائی کرنے کی کوشش۔البتہ! اصل خدشہ وخطرہ اس وقت پیداہوتا ہے جب کسی مذہبی اسکالر کا اخذ کردہ نتیجہ محض ایک انسان کی ممکنہ خطا پر مبنی تشریح کے بجائے، حتمی اور اِلہامی طورپر مصدقہ ومحکم بنا کر پیش کیا جاتاہے۔لہٰذاٹھیک اُسی لمحےتکریمِ علم وتحقیق کاجذبہ؛ دبے پاؤں اہل علم کی شخصیت پرستی کا روپ دھار لیتا ہے، انسان کا تخلیق کردہ نظام تقدس کی چادر اُوڑھ لیتاہے،اختلاف رائےکو نافرمانی/گمرہی قرار دے دیا جاتا ہے، تنقید ؛الحاد و بے دینی/گستاخی میں بدل جاتی ہے اورپھرمذہبی اسکالرکافکری اثاثہ؛ دوسروں کے دل و دماغ پر تسلط قائم کرنے کا آلۂ کار بن جاتی ہے۔یہی وہ فکری رویہ ہے جسے’ فکری نرگسیت‘کا نام دیا جا سکتا ہے، جس سےمتأثر کوئی بھی اسکالر، ادارہ یا طبقہ صرف اپنے نظریات کی تقدیس کا قائل ہو جاتا ہے، صرف اپنی تعبیر وتشریح کویکتاوبےعیب اورحتمی وحق تسلیم کرتا ہے اور خود کو برتر اور مخالف گروہ کو کمترثابت کرنے کے لیے کسی نہ کسی کو گمراہ قرار دیتا ہے۔
یہ بھی واضح رہےکہ اس اصطلاح کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہرمذہبی اسکالر ’فکری نرگسیت/خودستائی‘کا شکار ہے، یاہر سنی فکر بنیادی طور پر انتشار کا داعی ہے، بلکہ یہ بحث و تکرار پر مبنی مذہبی معاشرت کے اندر بار بار جنم لینے والے ایک ایسے روگ (مرض) کی نشاندہی کرتی ہے جس میں انسانی رائے کو حتمی اور مطلق بنا دیا جاتا ہے، مفسر (تشریح کرنے والے) کو مقدس قرار دے دیا جاتا ہے، اور دوسروں کو خارج (مسترد) کر کے اپنے گروہ کی طاقت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔
اِس اصطلاح کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہر مذہبی اسکالر خودستائی میں مبتلا ہے یاہرسنی فکرفطرتاًفرقہ پرستی پر مبنی ہے، بلکہ اِس اصطلاح کے پردے میں مذہبی مناظرانہ کلچر میں بار بارسراُٹھانے والی ایک فکری بیماری کی شناخت کرناہےکہ جہاں انسانی فہم وتعبیرکومطلقاً کمال وبےعیب کادرجہ دے دیا جاتا ہے،مفسرو شارح اِسکالر کا تقدس قائم کیا جاتا ہے اور مخالفین کےاختلاف رائے کومسترد کرتے ہوئے محض اپنے گروہ کی طاقت کو مضبوط و مستحکم کیاجاتا ہے۔
گویایہ ایک بہت بڑا تضاد ہےکہ اسلام تو اِنسان کو مخلوق کی محکومی /بندگی سے نجات دلانے کے لیے آیا تھا، مگر مذہبی ادارے، بندے اور اللہ کے درمیان مفسرین کا ایک طبقہ حائل کر کے اُسی محکومی/بندگی کو دوبارہ ہوا دیتے ہیں۔گفتگو کا اسلوب وزبان تو اِسلامی ہی رہتی ہے، مگر اُس کا باطن غیراللہ پرستی میں مبتلاہوجاتا ہے، یعنی وہ اطاعت ربانی کی جگہ شخصیت پرستی کی طرف منتقل ہو جاتاہے، جس کے فیصلوں کو اخلاقی اور علمی وعقلی جرح وتعدیل سے بالاتر سمجھ لیا جاتا ہے۔
۲۔فکری غیریت سازی: مذہبی غیریت سازی (The Religious Other) کا یہ کارخانہ بالعموم ایک متعین تسلسل کے ساتھ کام کرتا ہے۔ یہ محض کسی نظریاتی تصادم کا اتفاقی شاخسانہ نہیں، بلکہ یہ بنیادی طریقہ کاربن جاتا ہے جس کے سہارے کوئی بھی مسلک اپنی شناخت، متبعین کی وابستگی اور اپنی طاقت وقوت کو مضبوط کرتا ہے۔
۱۔کوئی عالم یا مکتب فکرایک ایسی تعبیر وتشریح پیش کرتا ہے، جسے وہ دیگر قابلِ قبول تشریحات میں سے محض ایک تشریح تسلیم کرنے کی جگہ اُسےکوحرفِ آخر سمجھتا ہے۔
۲۔ تعبیر/نظریہ؛جماعتی شناخت کاحصہ بن جاتا ہے کہ اُس پر سوال اٹھانا ؛جماعت پر سوال اُٹھانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
۳۔دانشور/اسکالر کو اَلقابات، حسب ونسب، مکاشفات و الہامات، روحانی دعووں یا ادارہ جاتی تکرار کے ذریعے اُس بلند مرتبےپر پہنچادیا جاتا ہے کہ اُس پر تنقید کفر/توہین و بے حرمتی کااحساس دلانے لگتاہے۔
۴۔ حریف /مخالف کو رافضی، ناصبی، وہابی، بریلوی، دیوبندی، فلسفی، بدعتی، زندیق یا کافر جیسے کسی ایک خول میں محدود کردیا جاتا ہے، جس کے باعث حریف/مخالف کااپنگ وجوداور اُس کی حیثیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ۔دلائل وشواہدکی جگہ اخلاقی بیزاری اورنفرت لے لیتی ہے۔ فرائض وواجبات، مناکحت، خوردونوش، سلام وکلام، جنازہ وتدفین اور معاشرتی میل جول سے متعلق سخت قوانین وضوابط بناکرباہمی فاصلے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
۶۔ یہ حدبندی/حصاربندی خود کار طریقے پراپنے وجود کو تقویت دیتی ہے کہ حریف/مخالف کی مذمت وتذلیل؛ وفاداری کی دلیل بن جاتی ہے اور محض توقف یا احتیاط کو بھی فکری بےاعتدالی، یا کفر متصور ہونے لگتا ہے۔
یہ پوراعمل؛ قائدین ومتبعین دونوں کوفائدہ پہنچاتا ہے۔ اِس کی وجہ سےقائدین کو اِقتدار،عقیدت مند، ادارے اور گروہ پرمطلق کنٹرول /اختیار حاصل ہوجاتاہےکہ کون اُس گروہ کا حصہ ہے اور کون نہیں۔دوسری طرف، متبعین کوبذات خودغوروفکر اورسوچنے سمجھنے کی زحمت واضطراب سے نجات مل جاتی ہے۔چناں چہ ’ہم ہی حق پر ہیں‘ کا دعویٰ کرنا نفسیاتی اعتبار سے اُس احساس سے کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُس طریقِ کار کے لیے ہم جواب دہ ہیں ۔یعنی لوگ تحقیق وجستجوکی ذمہ داری اُٹھانے سے ڈرتے ہیں، اِس لیے وہ کسی نہ کسی قائد کی اندھی تقلید کرکے خود کوحق اور دوسروں کوناحق کہنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔
جدید عمرانی نفسیات میں اِس سے مربوط ایک رجحان ورویے کو ’گروہی نرگسیت‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب اپنے گروہ کی بڑائی کا ایک ایسا سحر آمیز تصور ہے جس میں یہ وہم بھی شامل ہو کہ بیرونی دنیا اُن کی اس فوقیت کا اعتراف کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے گروہ توہین یا بے عزتی /سبکی کے معاملے میں غیر معمولی حد تک حساس ہو جاتے ہیں اور مبینہ بے اعتنائی یا تحقیروسبکی کا جواب شدید عناد اور دشمنی سے دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔مذہبی تناظر میں یہ رویہ غیر معمولی حد تک زہریلا اور مؤثر ہو جاتا ہے، کیوں کہ یہاں گروہی تفاخر کو مشیتِ الٰہی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ پھر انسانی انا محض اس ادعا پر اِکتفا نہیں کرتی کہ ’میں صراطِ مستقیم پر ہوں‘ بلکہ وہ پکار اُٹھتی ہےکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا انتخاب کیا ہے، لہٰذا ہم سے عناد گویا اللہ تعالیٰ سے عناد ہے۔
۳۔ شخصیت پرستی کی تقدسیت: قرآن مجید میں اگرچہ علمی نرگسیت جیسی جدید اصطلاح استعمال نہیں ہوئی، تاہم وہ شخصیت پرستی، ہوائے نفس، موروثی روایات اور پندارِ تقویٰ کو اُس مسند پر بٹھانے سے ہمیشہ روکتا ہے جو محض اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ان قرآنی آیات کو نامزد علما کوکافر ومشرک قرار دینے کے لیے بطور ہتھیار اِستعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کی نوعیت اخلاقی اور تشخیصی ہے۔ یہ آیات اندھی تقلید کے اُس ہولناک رُخ کو آشکار کرتی ہیں جس میں انسانی فہم و فیصلے کے سامنے اِس طرح سر تسلیم خم کر دیا جاتاہے جوکہ اُصولی طورپر صرف رب العزت کا خاصہ ہے۔چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’اُنھوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا اور مسیح بن مریم کو(بھی) حالاں کہ اُنھیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔
( القرآن،سورۃالتوبہ :۹،الآیہ:۳۱)
یہ آیت؛ علم و دانش یا مذہبی قیادت پر کوئی حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی اخلاقی خود مختاری (غوروفکر کی صلاحیت) کو کسی کے آگے گروی رکھ دینے پر حملہ ہے۔ جناب عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منسوب مشہور تشریح کے مطابق:علماکی تعظیم سے مراد اُن کے آگے سجدہ ریز ہونا/جبیں سائی کرنا نہیں تھا، بلکہ حلال و حرام کو نئے سرے سے طے کرنے کا اُنھیں اختیار دینا اور پھر بلا چون و چرا اُن کی تابعداری کرنا تھا۔ چناں چہ یہ انتباہ ہر دینی روایت پر نافذ ہوتا ہےکہ جب کسی فقیہ/ محقق کے فیصلے کو وحی، عدل، عقل اور ضمیر کی کسوٹی پرجانچنے کے بجائے بذاتِ خود مقدس مان لیا جائے، تو مذہبی فرماں برداری دراصل درپردہ مخلوق کومسندا ربابیت پربٹھانے کی ایک شکل بن جاتی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
’بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ تعالیٰ نے اُسے علم کے باوجودگمراہ کردیا اور اُس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ کے بعد اُسے کون راہ دکھائے گا؟تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘ (القرآن،سورۃ الجاثیہ: ۴۵،الآیۃ:۲۳)
یہ آیت واضح طور پر نفسانی خواہش اور علم کو آپس میں جوڑتی ہے۔لیکن فکری عبقریت ؛نفس کا تزکیہ نہیں کرتی، بلکہ یہ’ انا‘ کو موثرومہلک حربے فراہم کر دیتی ہے۔ ایک عالم اپنی کینہ پروری، جاہ پسندی، خوف یاحریفانہ چشمک کو عقلی جواز فراہم کر سکتا ہے اور پھر اُن نفسانی خواہشات کو عقیدےاورنظریے کانام بھی دے سکتا ہے۔ اِس طرح علم، زہد و ورع کا لبادہ اوڑھے رکھنے کے باوجود، عملاً خواہشِ نفس کا کارندہ اور غلام بن جاتا ہے۔ارشاد ربانی ہے:
تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اُسے جو پرہیزگار ہیں۔ (القرآن، سورۃ النجم:۵۳،الآیۃ:۳۲)
فرقہ وارانہ نظاموں کاآغاز اکثر دعویٔ عبقریت سے ہوتاہےکہ ہمارا عقیدہ غیر آلودہ وخالص ہے، ہمارا سلسلہ وسندبرتر ہے، ہمارے اولیامحفوظ ہیں اور صرف ہمارے علماوفقہا ہی راسخ العقیدگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔جب کہ قرآن؛ انسانوں سے یہ اختیار واپس لیتا ہے۔ حتمی اخلاقی درجہ بندی صرف اللہ کا حق ہے، وقار و برتری کے لیے آپس میں متصادم ہونے والے مذہبی مکاتبِ فکر کانہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
جو شخص تمھیں سلام پیش کرےاُس سے یہ نہ کہوکہ تم مسلمان نہیں ہو۔ (القرآن،سورۃ النساء: ۴،الآیۃ:۹۴)
یہ آیت: اخراجِ دین کی ہرخواہش کے سامنے ایک رکاوٹ کھڑی کرتی ہےاور اہل ایمان کی رہنمائی کرتی ہے کہ وہ دنیوی فائدے کے لیے کسی دوسرے شخص کے ایمان پر حملے کے جذبے کے خلاف مزاحمت کریں۔ یہ اصول اُس وقت اور بھی حساس ہوجاتا ہے جب مذہبی شناخت وفتوے؛ مال وجائیداد،جاہ و منصب، مناکحت، جنازہ وتدفین، تحفظ وسلامتی اور سیاسی اقتدارکے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔تکفیر محض ایک لفظ نہیں،بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ اکثروبیشتر اِس لفظ کا حکم ازخود اِلزام تراش کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں اِس لیے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ۔بےشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔ ( القرآن،سورۃ النحل: ۱۶،الآیۃ:۱۱۶)
اللہ تعالیٰ کا نام لے کر لب کشائی کرنا، ایک عظیم اور جوکھم بھرا ذمہ داری کاعمل ہے۔ چناں چہ ایک عالم کا اولین فریضہ؛ پندارِ علم ہونا نہیں، بلکہ حد درجے کی احتیاط اور غایت درجے کا عجزہے۔ فتویٰ شاید ناگزیر ہو، مگر وہ بہرصورت مشیتِ الٰہی کو سمجھنے کی ایک ادنیٰ انسانی کوشش ہی رہتی ہے،اِس لیے یہ دعویٰ کہ ’اللہ کا فرمان یہ ہے‘ کبھی بھی اس گمان کا لبادہ نہ اوڑھے کہ ’میرا استدلال یہ ہے۔‘
دیگرقرآنی آیات بھی اِس تعبیروتشریح کی مکمل تصدیق کرتی ہیں کہ قرآن مجید’ تمسخر، توہین آمیز اَلقاب، بدگمانی اور قبائلی برتری سے منع کرتاہے۔(سورۃالحجرات:۴۹،الآیۃ:۱۱-۱۳) تمام گروہوں کو ایک مشترک کلمےکی طرف بلاتاہےکہ کوئی غیراللہ کو اپنا رب نہ بنائے۔(آل عمران:۳،الاآیۃ:۶۴ ) اور آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے قرار دیتا ہے جو زمین میں سرکشی یا فساد نہیں چاہتے۔ (القصص:۲۸،الآیۃ:۸۳) یہ سب مل کر فکری تواضع کا ایک الٰہی نظام قائم کرتے ہیں کہ حق ہی مقدس ہے، کسی انسان کی رائے اِس کا حامل اور مقدس نہیں۔
۴۔دشمن سازی اورزبان: اِس تناظر میں تاریخی متون کو اُن کے مخصوص سیاق و سباق میں ہی پڑھا جانا چاہیے اور کسی بھی بڑے مفکر کی فکر کو محض ایک جملے میں سمیٹا اور محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کے باوجود، مناظرانہ جملے اپنی اہمیت رکھتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے عہد اور حالات کے دھارے سے نکل کر زندہ رہتے ہیں۔ وہ محفوظ کر لیے جاتے ہیں، اقتباسات کی شکل اختیار کرتے ہیں، اداروں کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر اُن کروڑوں انسانوں کی شناخت طے کرنے کے لیے اِستعمال ہوتے ہیں جن کا اُس اصل بحث / تنازع سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔درج ذیل مثالیں بار بارمحفل لوٹنے والی خطیبانہ تکنیک کو ظاہر کرتی ہیں کہ پوری جماعت کیسے ایک اخلاقی عیب میں سمیٹ دیا جاتا ہے اور ایک عالم کا فیصلہ سلسلہ بہ سلسلہ/نسل درنسل تحقیر کاایک مستقل پیمانہ بن جاتا ہے۔
۱۔ابن تیمیہ اور تقسیم کا رُجحان: ابن تیمیہ کے بموجب:’اہل رفض، خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے والے فرقوں میں سب سے زیادہ جھوٹے ہیں۔‘ ( ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ؛ ترجمہ: الرافضۃ اکذب طوائف اہل الاهواء)
یہ جملہ محض مخصوص شیعہ دلائل کو مسترد کرنے سے کہیں آگے کی بات کرتا ہے۔ یہ ایک اخلاقی عیب ( جھوٹ)کو اورایک نظریاتی سلسلے/روایت کو بنیادی طورپر پیدائشی شناخت عطاکرتاہے۔ یعنی ایک بار جب کسی کمیونٹی کو حتمی طور پر جھوٹا قرار دے دیا جائے، تو پھر نہ تو اُس کی گواہی سننے کی ضرورت باقی رہتی ہے، نہ اُس کے شواہد کی جرح وتعدیل اور تفتیش کی حاجت ہوتی ہے،نیزاُس کے اعتراضات/ دلائل کوسننے سے پہلے ہی خارج /مسترد کردیا جاتا ہےاوریہ لیبل (ٹھپّہ) کسی بھی بحث کے آغاز سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔
ابنِ تیمیہ نے یہ بات قرونِ وسطیٰ (Medieval world) کے ایک ایسے دور میں لکھی تھی جو شدید مسلکی اور مذہبی رقابتوں کا دور تھا اور یہ تحریر براہِ راست شیعہ متکلم (Theologian) علامہ حِلی کے رد میں لکھی گئی تھی۔ وہ مخصوص پس منظر اُس مناظرانہ اندازِبیان کی وجہ تو سمجھاتا ہے، لیکن اُس کے بعد والے عہد پر پڑنے والے اثرات کو ختم نہیں کرتا۔ اِس جملے کو بارہا اُس کے اصل متنی تنازع سے الگ کیا گیا اور اُسے مجموعی طور پر شیعوں کے خلاف ایک تہذیبی فیصلے کے روپ میں اِستعمال کیا گیا۔ علمی بیان بازی (Scholarly rhetoric) بالکل اُسی طرح سماجی طاقت کا روپ دھارلیتی ہےجس طرح ایک جملہ جو کسی علمی بحث یا تنازع کے دوران لکھا گیا تھا، وہ روزمرہ کی نفرت اور تحقیر کے لیے جواز کا مدار (Permission structure) بن جاتا ہے۔
۲۔امام غزالی اورتکفیر و احتیاط کے درمیان کشمکش:امام غزالی کے بموجب: ’ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ ہم اُن فلسفیوں اور اُن کے متبعین دونوں ہی کو کافر شمار کریں۔‘(امام غزالی، تہافت الفلاسفہ، خاتمہ؛ ترجمہ صبیح احمد کمالی)
امام غزالی کے اِس نتیجے کا تعلق تین ایسے مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) نظریات سے ہے جو فارابی اور ابنِ سینا سے منسوب ہیں۔ یہاں اہم نکتہ یہ نہیں ہے کہ آیا اُن کا یہ مذہبی فیصلہ (فتویٰ) اُن کے اپنے فکری نظام کے اندر قابلِ دفاع تھا یا نہیں، بلکہ اہم بات اس زُمرے (تکفیردائرہ ) کی پھیلنے والی طاقت ہے، یعنی ایک فلسفیانہ نتیجہ، کمیونٹی (اہلِ ایمان) کے وجود کےلیےباؤنڈری بن جاتا ہےاور ایک فکری خطا، کفر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔تاہم، امام غزالی اِس نظریے کو پیچیدہ بھی بناتے نظرآتے ہیں۔ اپنی کتاب ’فیصل التفرقہ‘ میں وہ بے باکانہ تکفیر پر سخت انتباہ کرتے ہیں اور متون کی تشریح میں وسعت ِفکر کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ اندرونی کشمکش بہت سبق آموز ہےکہ ایک عالم بیک وقت کشادہ قلبی اورتکفیردونوں کی صلاحیت رکھ سکتاہےاور ایک پوری روایت اُن دونوں رجحانات کو اپنے اندر محفوظ بھی رکھ سکتی ہے۔ خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب بعد کے ادارے / حلقے صرف سخت ترین فتوے کو تو مستند اُصول کا درجہ دے دیتے ہیں، لیکن اُس کے ساتھ دی گئی احتیاط کو بھول جاتے ہیں۔ کیوں کہ کسی مذہبی بحث میں مناظرانہ شدت پسندی کو متحرک کرنا، مذہبی احتیاط اور ضبط کو اِختیار کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔
۳۔جنوبی ایشیائی سنی مناظرےاور تکفیر در تکفیر:ہندوستانی مسلم علمی روایت نے غیر معمولی طورپر؛شاعری،تصوف و فقہ، سائنس وفلسفہ اور اِستعمار مخالف (Anti-colonial) افکار کو جنم دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اُس نے مسلکی گروہ بندی اور درجہ بندی کی طاقتور ثقافتوں کو بھی پیدا کیا۔ درج ذیل مثالیں ہندوستانی سنیت (Sunnism) کے حقیقی جوہر یا اصل کے طور پر پیش نہیں کی جا رہی ہیں، بلکہ یہ؛ یہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح حریف سنی گروہوں اور مخالف شیعہ مناظروں نے بارہا اپنی مذہبی ساکھ قائم کرنے کے لیے تکفیرکا سہارا لیا۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بموجب: جس خطے/علاقے میں ہم رہتے ہیں وہاں اثنا عشری عقیدہ ونظریہ اس حد تک پھیل چکا ہے کہ ہر خاندان میں ایک یا دو افراد شیعہ ہوچکےہیں۔
( شاہ عبدالعزیز، تحفہ اثنا عشریہ بحوالہ ایس. اے. اے. رضوی)
یہ آبادیاتی خوف (Demographic anxiety) کی کلاسیکل زبان ہے۔ حریف صرف غلط راہ پر ہی نہیں ہے، بلکہ وہ گھر کے اندر تک پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے اکثریتی طبقے کا نقشہ کھینچتا ہے جو خطرے میں ہےاور ایک اقلیتی طبقے کودراَنداز (Infiltrating) بنا کر پیش کرتا ہے۔ دوسری جگہوں پر سلام ودعا، مناکحت اور ایک ساتھ کھانا کھانے کی فقہی حوصلہ شکنی نے مذہبی اختلاف کو سماجی علیحدگی/تفریق میں تبدیل کر دیا۔ ایک بار جب عام ذاتی قربت کوآلودگی (Contamination) کے طور پر پیش کیا جائے، تو پڑوسی ایک تہذیبی خطرے کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔شاہ اسماعیل دہلوی کے بموجب: ایک سچے مومن کو چاہیے کہ وہ طاقت کے زور پر تعزیہ توڑنے کو اُتنا ہی کارِ ثواب سمجھے جتنا کہ بتوں کو توڑنا۔
(شاہ اسماعیل دہلوی بحوالہ اردو ترجمے باربرا ڈی میٹکاف)
یہاں کسی خیال /نظریے سے لے کر مادّی تباہی تک کا سفر بالکل واضح ہے،یعنی ایک ایسی معلوماتی یا علامتی شے، جو ایک دوسرے مسلم طبقے کے نزدیک متبرک اور عزیز سمجھی جاتی ہے، اُسے ایک بت کے طور پر دوبارہ پیش کیا جاتا ہے اور اُس کی مادّی تباہی کارِ ثواب بن جاتا ہے۔ حریف کی اُس مقدس علامت کو اَصل معنی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اُسے مسلم تحفظ کے دائرے سے باہر ڈھکیل دیا جاتا ہے۔ دوسروں کو خود سے الگ (Othering) کرنے کا عمل بالکل اُسی طرح ایک تباہ کن قوت کو جنم دیتا ہےجس طرح پہلے کسی علامت کو ’غیر اسلامی‘ قرار دیا جاتا ہے اور پھر اُس کے خلاف ’جارحیت‘ کو ایک اخلاقی جواز فراہم کر دیا جاتا ہے۔
مولانا احمد رضابریلوی کے بموجب:’جو شخص دیوبندیوں کے کفر میں شک کرے، وہ خود کافر ہے۔
(مولانا احمد رضا خان، فتاویٰ رضویہ، جلد :۶، ص: ۸۲)
یہ فارمولہ؛ تکفیر درتکفیر(Recursive Takfir) کے عمل کو جنم دیتا ہے۔ اب صرف اُس مذموم عقیدے سے بچنا ہی کافی نہیں رہتا، بلکہ انسان کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اُس عالم کے جاری کردہ فتوے کی من و عن نقل اور تائید بھی کرے۔ کوئی بھی شک و شبہ، احتیاط، دوستانہ تعلق، یا کسی کی تکفیر سے انکار، خود اُس کی اپنی ہی تکفیرکی دلیل بن جاتاہے۔ ایسا فکری ڈھانچہ ؛اقتدار اور طاقت کو اپنے قابو میں کرنے کے لیے غیر معمولی طور پر موثر ثابت ہوتا ہے، کیوں کہ یہ کسی غیر جانبدار یا درمیانی راستے کی گنجائش ہی باقی نہیں چھوڑتا۔ ہر مسلمان کو اِس بات پر مجبور کر دیا جاتاہے کہ وہ یا تو اُس فتوے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے، یا پھر اپنے حریفوں کے ساتھ خود بھی دائرے سے خارج ہونے کے لیے تیار ہو جائے۔
یہاں اِس توازن/برابری کو سمجھنا بھی بہت اہم ہےکہ شیعہ مخالف مناظرے، دیوبندی-بریلوی تنازع، تصوف مخالف (سلفی/اصلاحی) تحریکیں اور اُن عقیدت مند مکاتبِ فکر کی طرف سے جوابی تکفیر کا عمل؛ یہ سب اکثر ایک دوسرے کا عکس /آئینہ ہوتے ہیں۔ ہر ایک فریق دوسرے فریق کی شخصیت پرستی (Hero worship) کی مذمت کرتا ہے، جب کہ خود اپنے پسندیدہ قائدین کے گرد تحفظ کا ایک حصار بنا لیتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے مبالغہ آرائی پر مبنی رویوں پر حملہ کرتا ہے،جب کہ خود اپنے مذہبی لٹریچر (قانون/اصولوں) کی اہمیت وحیثیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ نام بدل جاتے ہیں، لیکن نفرت اور طاقت کا یہ طریقہ کار ہر جگہ ایک جیسا ہی رہتا ہے۔
۵۔ علمی و فکری نرگسیت اور حصول اقتدار : نظریات وخیالات محض اِس لیے معاشرے پر غالب نہیں آجاتے کہ وہ دلائل کے لحاظ سے قائل کرنے والے ہوتے ہیں، بلکہ وہ تب غالب آتے ہیں جب وہ اداروں سے جڑ جاتے ہیں، جیسے کہ دینی مدارس، منبر و محراب، اشاعتی ادارے، سرپرستی کے نیٹ ورک، عدالتیں، سیاسی جماعتیں، فلاحی نظام، برادری اور رشتے ناطے،طریقۂ تدفین اور سند و اجازت کے سلسلے۔ وہ عالم جو راسخ العقیدگی (Orthodoxy)کی تعریف پر قابو پا لیتا ہے، وہ اِس بات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ کس پر اعتماد کیا جائے، کون نماز کی امامت کر سکتا ہے، کس کا نکاح جائز ہے، کس کا کھانا کھایا جا سکتا ہے، کس کی کتابیں جلائی جا سکتی ہیں اور کس کے رنجم وغم کو جائز اوردرست) تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
چناں چہ علمی و فکری افکار کی حد سے زیادہ تعظیم / مدح سرائی کے مادّی و سماجی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مذہبی معیشت (Religious economy) کو جنم دے سکتی ہے، جس میں خدائی قبولیت اور حقانیت تک رسائی صرف ایک مخصوص و تسلیم شدہ طبقے کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔’’شیخ الاسلام، حجۃ الاسلام اور اعلیٰ حضرت‘‘ جیسے القابات و خطابات بذاتِ خود غلط نہیں ہیں۔ اساتذہ کے لیے احترام، دعا اور شکر گزاری کے جذبات بالکل فطری ہیں۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب یہ القابات شواہد اور دلائل کے خلاف ایک ڈھال بننے لگتے ہیں، جب کسی کی سحر انگیز شخصیت (Charisma) اُس کے محاسبے کی جگہ لے لیتی ہے اور جب ایک پیروکار؛ ایک عالمِ دین پر سوال اُٹھانے سے زیادہ اِس بات سےخوف کھانے لگتا ہے کہ کہیں وہ اندھی تقلید میں اللہ تعالیٰ کے دین کی غلط ترجمانی نہ کر بیٹھے۔
چناں چہ ا ِس مرحلے پر عالم کی ’انا‘(Ego) ہی پورے گروہ یا مسلک کی ’انا‘ بن جاتی ہے۔ بانیِ مسلک پر کی جانے والی کسی بھی تنقید کو پوری برادری کی توہین اور تذلیل کے طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔ اُس کے جواب میں وہ برادری ؛اپنے اکابرین کی مدح سرائی اور تعریفوں میں مزید شدت کی راہ اختیار کرتی ہے، جملہ ابہام یا اُلجھاؤ کو دبا دیتی ہے اور اختلافِ رائے کرنے والوں کو سزائیں دیتی ہے۔ یہ عمل مختلف گمراہ سماجی گروہوں (Dark social forces) کو جنم دیتا ہے، مثلاً:
انفرادیت کا خاتمہ (Deindividuation): حریف اب کوئی انسان یا فرد نہیں رہتا، بلکہ وہ اس مردود یا ملعون گروہ کا محض ایک نمونہ بن کر رہ جاتا ہے۔یہ ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جس میں کسی انسان کی ذاتی خصوصیات، اچھائیوں اور اُس کی اپنی منفرد پہچان اور حیثیت کوبھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
بداخلاقی (Moral disengagement): حقانیت، عزت یا پاکیزگی کے دفاع کے نام پر دوسروں کو نقصان اور تکلیف پہنچائے جانے کوجائز قرار دے دیا جاتا ہے۔یعنی انسان جب یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مسلک کی عزت بچا رہا ہے، تو وہ دوسروں پر ظلم کرتے وقت کوئی پشیمانی یا اخلاقی بوجھ محسوس نہیں کرتا۔
قربانی کا بکرا بنانا (Scapegoating): معاشرتی خوف وخطرہ، بے چینی اور سیاسی ناکامیوں کااِلزام کسی نظریاتی یا مسلکی اقلیت پر ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ بذات خود؛خودستائی اورتفاخرکے خول میں قید رہتاہے۔
علمی و فکری ناکہ بندی (Epistemic closure): اپنے نظریات کے خلاف سامنے آنے والے کسی بھی ثبوت یا دلیل کو صرف اس لیے مسترد کر دیا جاتا ہے، کیوں کہ اُس کا منبع وماخذ(Source) پہلے ہی بدعنوان یا فاسد قرار دیا جا چکا ہوتا ہے۔
یہ وہ حالت ہے جہاں کوئی شخص حق سننا ہی نہیں چاہتا۔ اگر حریف کوئی درست بات یا حوالہ بھی پیش کرے، تو یہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے کہ ’’یہ تو ہیں ہی گمراہ‘‘ اُس کی بات کیا سننی؟
پاکیزگی کا زعم (Purity escalation): متبعین؛مخالفین پر زیادہ سے زیادہ سخت لعن طعن اور شدید ترین تنقید کر کے ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی وفاداری ثابت کرنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔گویامتبعین؛ مسلک میں اپنی جگہ بنانے اور خود کوسب سے پکاوفادار ثابت کرنے کے لیے مخالفین پر سب سے سخت فتوے لگانے کی ریس میں لگ جاتے ہیں۔
پیشوا پر اِنحصار (Authority dependence): اہل ایمان اپنے ضمیر کی آواز پر اعتماد کھو دیتے ہیں اور وہ وحیِ الٰہی اور ادارے / عالم کی ذاتی تشریح کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔یعنی عام متبعین یہ سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں کہ قرآن و سنت (وحی) ایک مستقل اور الٰہی حقیقت ہے، جب کہ کسی عالم یا ادارے کی رائے محض اُس وحی کو سمجھنے کی ایک انسانی تشریح ہےجس میں ممکنہ خطاکی گنجائش رہتی ہے۔ لیکن وہ ایک عالم کی رائے کو بھی وحی ہی کا درجہ دے دیتا ہے، جس کی وجہ سے عالم کی کسی بات سے اختلاف کرنا گویا براہِ راست خدا اور رسول سے اختلاف کرنے کے مترادف سمجھ بیٹھتا ہے۔
چناں چہ علمی و فکری نرگسیت (Intellectual narcissism) یعنی اپنی ہی رائے کو حرفِ آخر سمجھنا محض ایک ذاتی غرور یا خود نمائی نہیں رہ جاتی ، بلکہ جب یہ مذہبی اقتدار (Religious authority) کے ساتھ جڑ جاتی ہے، تو یہ حکمرانی اور تسلط کی ایک ٹیکنالوجی /حربہ بن جاتی ہے۔ اب وہ یہ طے کرتی ہے کہ کس کو بولنے کا حق حاصل ہے، کسے لازماً خاموش رہنا ہوگا اور کسے کسی بھی قسم کے اخلاقی احساسِ جرم کے بغیر معاشرے یا دائرے سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
۶۔تصورِ معصومیت اور مستعار عصمت کا رویہ:نبی اکرمﷺ اور اہل بیت اطہار کو طاہر اورپاک وصاف ماننے کا شیعی عقیدہ؛معاشرے کو ایک طاقتور اخلاقی متبادل (Moral counter-image) فراہم کرتاہے، جس کے مطابق اقتدار اور مقتدریت (Authority) کو پاکیزگی، عدالت، حقانیت، رحمت اور انا سے آزادی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔خصوصاً سانحہِ کربلا؛ مقدس مقتدریت کو کسی تسلط یا حاکمیت کے طور پر نہیں، بلکہ تسلط و جبر کے خلاف مزاحمت میں دی جانے والی قربانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام؛ اداروں پر قابو پا کر لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کرتے،بلکہ وہ حق سے وفاداری اور عظیم قربانی کے ذریعے مادّی اقتدار کے اخلاقی دیوالیےپن کو بے نقاب کرتے ہیں۔تاہم؛ یہ عقیدہ بعد میں آنے والے علما کو عاجزی اور اِنکساری سکھانے کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ عصمت کواُن کی ذات میں منتقل کرنے کے لیے۔ کوئی بھی فقیہ، خطیب، سید، پیر، یا دانشور جواِمام حسین علیہ السلام کے بارے میں بات کرتا ہے، وہ محض اس وجہ سے خودمعصوم نہیں بن جاتا۔ شیعہ طبقہ بھی شخصیت پرستی، علما کی مطلق العنانی (Clerical absolutism)، موروثی حقارت، یا سنیوں کی تذلیل کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ سنی مکتبِ فکر کی علمی نرگسیت (Intellectual narcissism) کی مذمت کرنا اور اپنے اداروں کو اُس سے مستثنیٰ سمجھنا، بالکل اُسی فکری اور تعصبی ڈھانچے کو دوبارہ جنم دے گا جو خود زیرِ تنقید ہے۔
چناں چہ مسلک پرست علمی و فکری رویوں کا حقیقی شیعہ جواب یہ نہیں ہے کہ دوسرے فریق کے مقابلے میں اپنی تشریحات کی ایک متوازی شخصیت پرستی (Competing idolatry) کی دیوارکھڑی کر دی جائے، بلکہ اس کا حل اہل بیتِ اطہار سے قربت کا وہ اُصول ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک عالم اُن ہستیوں سے جتناقریب ہونے کا دعویٰ کرے، اتنا ہی اُس کے کردار میں عاجزی، بہادری، عدل، نرمیت اور ذاتی یا ادارہ جاتی قوت کے حصول کے لیے مذہبی جذبات کے استحصال سے اجتناب کامادّہ بدرجہ اتم رہنا چاہیے۔
۷۔ قرآنی اخلاقیات اورفکری تواضع:کوئی بھی معاشرہ؛ علم وتحقیق کو ترک کر کے فرقہ وارانہ یا تقسیم پیدا کرنے والی نرگسیت پر قابو نہیں پا سکتا، بلکہ وہ اس پر قابو تب ہی پاسکتا ہے جب وہ علم و تحقیق کو اُس کے اصل اور صحیح مقام پر رکھے، یعنی وحی زیراثر ایک ایسی خدمت جس میں غلطی کا امکان ہواور جوکبھی وحی کی حریف یا ِ مقابل نہ بن سکے، درج ذیل علوم و ضوابط سیکھنے کے عمل کو تسلط اور غلبے میں تبدیل ہونے سے روک سکتے ہیں،مثلاً:
۱۔وحی اور تشریح میں امتیاز:ایک عالم کو یہ کہنا چاہیے کہ ’یہ میری رائے یا فہم ہے‘ بجائے اِس کے کہ وہ اپنے اِستنباط کو وحی/الہام کی شکل میں پیش کرے۔ ۔ تکفیر کو آخری حدسمجھنا:کسی بھی مسلک یا مکتبِ فکر کا لیبل/ٹھپّہ کبھی بھی کسی شخص کے حقیقی عقائد اور اُس کےکردار کی تفتیش کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
۳۔مخالف موقف کااظہاراپنے محبوب الفاظ میں چاہنا:یعنی مخالفین کے موقف کا غلط خاکہ/کارٹون بنانا، پھر اُس کی تردید کرنا، یہ ایک طرح کی علمی و فکری بددیانتی ہے۔اِس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۴۔غیر یقینی صورتِ حال کا اظہار:شایدکہ ’میری رائے میں‘ اور ’واللہ اعلم‘ (اللہ ہی بہتر جانتا ہے) جیسے الفاظ کمزوری کی نشانی نہیں ہیں؛ بلکہ یہ روحانی آمریت اور ظلم کے خلاف حفاظتی سپر ہیں۔
۵۔تشریحات کو اَخلاقی نتائج سے پرکھنا:کوئی بھی ایسا نظریہ یا عقیدہ جس کا لازمی نتیجہ ظلم، ذلت اور سماجی نفرت کی صورت میں نکلتا ہو، اُس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، خواہ اُسے ماضی کے بڑے بڑوں کی تائید ہی کیوں نہ حاصل ہو۔
۶۔اقلیتوں کےحقوق اوروقار کا تحفظ:یعنی اقلیتوں کے نظریات پر بحث وتمحیص سے پہلے اُن کے حقوق اور وقار کے ساتھ عدل کرنا۔ خیال رہےکہ عدل کوئی ایسا انعام نہیں ہے جو عقیدے کی ہم آہنگی پر دیا جائے،بلکہ ہم آہنگ ہو یا نہ بہرحال عدل ہونا چاہیے۔
۷۔ احترام کو تنقید سے اِستثنا رکھنا: ایک معزز عالم کا شکرگزار بھی ہونا چاہیے، اُن سے محبت بھی کی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اُن پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے،کیوں کہ یہ تینوں بیک وقت ممکن بھی ہیں اور اُنھیں ملحوظ رکھنا کمال علم وتحقیق بھی۔
۸۔کثیر الجہتی ادارے کا قیام:ایسے کثیر الجہتی (Plural) ادارے قائم کیے جائیں جہاں کوئی ایک ہی مکتبِ فکر تمام اسناد، منبروں، مالی وسائل اور رشراکت داری پر قابض نہ ہو، یعنی ملک ومعاشرت میں کسی ایک ہی گروہ کی اجارہ داری نہ ہو۔
۹۔امانت سے آگاہی:اہل ایمان کو یہ سکھانا کہ ضمیر ایک امانت ہےاورعلما سے رجوع کرنے یا مشورہ لینے سے اللہ کے حضور اِنسان کی اپنی ذاتی جواب دہی ختم نہیں ہو تی، اِس لیے فکر وفہم کی حفاظت امانت ربانی کی طرح ہونی چاہیے۔
۱۰۔عظمت کا معیار:حقیقی عظمت ورفعت؛ لوجہ اللہ علمی وتحقیقی خدمت میں ہے نہ کہ اندھی تقلیدمیں۔ایک صادق اُستاد اخلاقی طورپر ذمہ دار اِنسان پیدا کرتا ہے نہ کہ اپنے اوپر اِنحصار کرنے والے مداح۔
فکری تواضع (Intellectual humility) کا مطلب؛ تشکیک پسندی یا مطلق العنانیت (Relativism ) نہیں ہے۔ انسان یہ مان سکتا ہے کہ کوئی دلیل غلط، خطرناک یا اسلام کے منافی ہے۔ عاجزی کا تعلق دراصل اہل علم کے اخلاقی رویے سے ہے، یعنی اپنی ممکنہ خطا کا احساس ہونا، دوسروں کی تذلیل سےپرہیزکرنا، رجوع کےلیے ہمہ دم مستعدرہنا اور اِس حقیقت کو تسلیم کرنا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ؛ انسان کی اپنی بحث و تمحیص میں جیت حاصل کرنے کی نفسیاتی و جذباتی خواہش کا مرہونِ منت نہیں ہوتا۔ ۔دین،حکمرانی کا ذریعہ نہیں:لادینیت/بےدینی (Intellectual shirk) کی سب سے گہری شکل علم و تحقیق کا وجود نہیں، بلکہ علم و تحقیق کو مطلق یا حتمی بنادینا ہے، یعنی انسان کا اپنے اخذ کردہ تعبیروتشریح کو وحی نما جذباتی قوت دے دینا اور دوسروں سے یہ مطالبہ کرنا کہ اگر وہ اس گروہ کا حصہ بنےرہنا چاہتے ہیں تو اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کریں۔ ضروری نہیں کہ بت؛ پتھرہی کا ہو۔ وہ کتابوں، القابات، علمی اسناد و اعجاز (Chains of authorization)، کشف و الہام، اداروں اور نسل در نسل منتقل ہونے والےموروثی خوف وہراس سے بھی تراشا جا سکتا ہے۔
علما بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ اُن کے پاس بصیرت بھی ہوتی ہے اور اَندھا پن بھی، جرأت بھی ہوتی ہے اور حرص و ہوس بھی، شوق و عقیدت بھی ہوتی ہے اور اَنا وغرور بھی۔ بےشک اُن کا علم دنیا کو روشن بھی کر سکتا ہے، لیکن یہی علم اُن کے باطن کی تاریکیوں کو مزید گہرا اور توسیع بھی کر سکتاہے۔ جب علم و فکر کو اِقتدار اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا جائے، تو یہ ایک ایسے ناموس مخالف/ حریف کو جنم دیتا ہے جس کا کم تر ہونا ہی عالم کی اپنی برتری اور عظمت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے اور جب اس حریف/مخالف کو ناپاک، فریبی، گمراہ یا اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے، تو پھر اخلاقیات کے عام ضابطے کمزور پڑ جاتے ہیں اور تخریبی قوتیں بے لگام ہوجاتی ہیں۔
اس کا حل؛ علم وتحقیق سےبیزاریت میں نہیں ہے،بلکہ اس کا حل ایک زیادہ کڑے اور سخت علمی معیار میں پنہاں ہے، یعنی ایسا علم و تحقیق جو عاجزی، تاریخی خود شعوری،عدل اور محبت سے نکھرا ہوا ہو۔ اسلام کی قدر و منزلت میں تبھی کمی آتی ہے جب کسی عالم کا وقار کسی انسانی جان سے زیادہ مقدس ہو جائے، جب کسی مکتبِ فکر کی فتح؛ حقائق سے زیادہ اہم ہو جائے، یا جب اللہ کی وحدانیت کا واسطہ دے کر اللہ کی مخلوق میں پھوٹ ڈالنے اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کرنےکو جائز ٹھہرایا جائے۔
مسلمان دانشور یا عالم کا فریضہ کوئی ایسا تختِ اقتدار قائم کرنا نہیں جہاں بیٹھ کر وہ پوری انسانیت پر حکم چلائے، بلکہ اس کافریضہ تو اللہ کی طرف لےجانے والے راستے کو صاف وستھراکرنا ہے،اِس طرح کہ وہ خود اُس راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔ علم کامقصود تویہ ہےکہ عالم کے اندر اپنی حدود کا احساس مزید گہرا کرنا چاہیے، دوسروں کے ایمان کے معاملے میں اُسے زیادہ محتاط رہنا چاہیے اور اقتدار وطاقت کی فریب کاریوں کے خلاف اپنی مزاحمت کو مضبوط کرنا چاہیے۔مِن جملہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو چمکنے کے لیے کسی مصنوعی دشمن کے اندھیرے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
حواشی اور مآخذ
اِس مضمون میں جن قرآنی آیات کا حوالہ یا ذکر ہے: ۳:۶۴؛ ۴:۹۴؛ ۹:۳۱؛ ۱۰:۵۹؛ ۱۶:۱۱۶؛ ۲۸:۸۳؛ ۴۵:۲۳؛ ۴۹:۱۱–۱۳؛ ۵۳:۳۲۔ مضمون میں درج اردو تراجم عربی متن کے قریب رہتے ہوئے اسی تحریر کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
۱۔ ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ القدریۃ، تحقیق: محمد رشاد سالم، ۹ جلدیں، ریاض: امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی، ۱۹۸۶ء۔ مختلف طبعات میں صفحات مختلف ہیں؛ اقتباس رافضہ کے ابتدائی عمومی تعارف میں آتا ہے۔
۲۔ امام غزالی، تہافت الفلاسفہ (فلسفیوں کا تہافت)، ترجمہ: صبیح احمد کمالی، لاہور: پاکستان فلاسوفیکل کانگریس، ۱۹۵۸ء۔ آخر میں ان تین نظریات کی درجہ بندی ملاحظہ ہو جنہیں کفر قرار دیا گیا ہے۔
۳۔ امام غزالی، اسلامی کلامی رواداری کی حدود: ابو حامد الغزالی کی فیصل التفرقہ، ترجمہ: شرمن اے جیکسن، آکسفورڈ: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، ۲۰۰۲ء
۴۔ شاہ عبدالعزیز، تحفہ اثنا عشریہ۔ مذکورہ آبادیاتی بیان اور اُن کے شیعہ مخالف مناظروں کے لیے دیکھیے: ایس. اے. اے. رضوی، شاہ عبدالعزیز: تطہیر پسندی، فرقہ وارانہ مناظرہ اور جہاد، کینبرا: معرفت پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۸۲ء، ص ۲۰۷-۲۰۸۔
۵۔ باربرا ڈی میٹکاف، برطانوی ہندوستان میں اسلامی احیا: دیوبند، ۱۸۶۰–۱۹۰۰، پرنسٹن: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، ۱۹۸۲ء، ص ۵۸۔ مذکورہ اقتباس تعزیوں کو بزور توڑنے کے بیان کو محمد اسماعیل (شاہ اسماعیل دہلوی) کی طرف منسوب کرتا ہے۔
۶۔ احمد رضا خان، فتاویٰ رضویہ، جلد: ۶، ص: ۸۲۔ مضمون میں درج اردو جملہ دیوبندی علما کی تکفیر میں شک سے متعلق معروف فتوے کا ترجمہ ہے۔ مکمل قانونی سیاق کے لیے کسی تنقیدی اردو نسخے سے رجوع کیا جائے۔
۷۔ گولیک ڈی زوالا، اگنیسکا؛ الیگزینڈرا سیخوچکا؛ رائے ایڈلسن؛ اور نووان جیاوکرما، ’اجتماعی نرگسیت اور اُس کے سماجی نتائج‘، جرنل آف پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی، جلد: ۹۷، شمارہ: ۶،سال:۲۰۰۹ء،ص: ۱۰۷۴-۱۰۹۶
۸۔ مارک آر لیری، ’زیادہ درست علم، بہتر فیصلوں اور کم تنازعے تک پہنچنے کا راستہ: فکری تواضع‘، امریکن جرنل آف ہیلتھ پروموشن، جلد: ۳۶، شمارہ: ۴ ،سال:۲۰۲۲ء،ص: ۷۵۷-۷۶۰
۹۔ کمیلا آدانگ، حسن انصاری، ماریبل فیئرو اور سبین شمٹکے، مدیران، اسلام میں کفر کے الزامات: تکفیر کا تاریخی مطالعہ، لیڈن: برِل،سال: ۲۰۱۵ء
ادارتی احتیاط: یہ اقتباسات اخراجی زبان کے تجزیے کے لیے پیش کیے گئے ہیں، پیچیدہ تاریخی شخصیات کو کسی ایک عبارت تک محدود کرنے یا جوابی فرقہ وارانہ دشمنی کو بڑھانے کے لیے نہیں۔
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔