تاریخ اسلام میں واقعہ کربلا ایک ایسا عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان نمایاں اور واضح خط امتیاز قائم کر دیا۔
تاریخ اسلام میں واقعہ کربلا ایک ایسا عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان نمایاں اور واضح خط امتیاز قائم کر دیا۔ کربلا محض ایک معرکہ کا نام نہیں، نہ صرف ایک دردناک سانحہ ہے، بلکہ یہ دین مصطفیٰ ﷺ کی حفاظت، حریت انسانی، استقامت على الحق اور ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت، نیز رضاے مولا کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کی لازوال مثال ہے۔
تذکرہ کربلا ہوتے ہی دنیا بھر کے محبان حسین کے دل غم حسین سے بھر جاتے ہیں۔ ماہ محرم میں ان کے نام کی مجالس اور اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، ان کے نام پر سبیلیں لگتی ہیں اور ان کے کردار کو، ان کی سیرت کو اور ان کی شہادت کو بیان کر کے ہم اپنے ایمان و یقین کو تازگی بخشتے ہیں۔
مگر ایک سوال جو باربار سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے یہ ہر صاحب ایمان کے ذہن میں پیدا ہونا بھی چاہیے، وہ یہ کہ کیا ہم صرف امام عالی مقام علیہ السلام سے محض محبت کا دعویٰ کرتے ہیں یا ان کے پیغام اور ان کے کردار کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دیتے ہیں؟ اس سلسلے میں ہمیں فکر کرنی چاہیے اور اپنے شعور اور اپنے ذہن کو اس طرف بھی متوجہ کرنا چاہیے۔
کربلا اصل میں دین کی بقا کی جنگ تھی۔ امام حسین علیہ السلام کا باطل کے خلاف، ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہونا، یہ کسی اقتدار کی طلب کے لیے نہیں تھا، بلکہ دین مصطفیٰ ﷺ کو تحریف و تبدیل اور اسلامی معاشرے کو ظلم اور جبر سے محفوظ رکھنے کے لیے تھا۔
آپ کا یہ قول مشہور ہے کہ آپ نے اعلان فرمایا کہ ’’میں اصلاح امت کے لیے نکلا ہوں‘‘ آپ کا یہ فرمان عالی شان اس تحریک کا خلاصہ ہے کہ اس کا مقصد کوئی سیاسی رتبہ یا اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ امت کی اصلاح، عدل و انصاف کا قیام اور جو دینی روح ہے اس کا تحفظ۔
اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں اہل ایمان کو حکم دیا کہ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد نہ کرو۔
اگر امام عالی مقام کا کردار دیکھا جائے اور کربلا کی تاریخ میں آپ کی کردار اور ان کے اس انوکھی سیرت کا جائزہ لیا جائے تو امام عالی مقام اس آیت کی بلکہ یہ سمجھیں کہ قرآن کے اس ارشاد کی عملی تفسیر ہے۔
حسینی کردار:
حسینی رنگ و آہنگ اور حسینی کردار ایک ایمانی و دینی کیفیت کا نام ہے۔ یہ وہ کردار ہے، یہ وہ رویہ ہے جس میں انسان اپنی ذات سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کو محبوب رکھتا ہے۔
یعنی سب سے زیادہ اس کی نظر میں اہمیت اور محبت اللہ سے ہوتی ہے یا اس کے رسول سے ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ اللہ اور اس کا رسول محبوب ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن کی آیت اور احادیث میں کہا گیا کہ ایمان کا کمال اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا ہے جب تک کہ مومن اپنی جان، مال، اولاد سب سے زیادہ اللہ کو محبوب نہ بنا لے اور اس کے رسول کو محبوب نہ بنا لے۔
دراصل جو حسینی کردار ہےیہ اسی کی تصویر ہے۔ اگر حسینی کردار کے عناصر کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو یہ نکات ظاہر ہوتے ہیں:
· حق پر استقامت
· ظلم و جبر کے سامنے بے باکی
· دین کے معاملے میں مصلحت کو اصولوں پر غالب نہ کرنا
· دنیاوی فائدے کے لیے دین فروشی نہ کرنا
· اور رضا ئےمولا کو ہر چیز پر مقدم رکھنا
امام عالی مقام علیہ السلام نے یہ بتایا کہ دنیاوی عزت، دنیاوی دولت یا دنیاوی اقتدار یہ آپ کو حقیقت میں کا میابی وکامرانی نہیں ہیں ، بلکہ حق پر استقامت اور حق کے لیے سب کچھ نثار کرنے کا جذبہ یہی آپ کو سب سے اعلیٰ بناتا ہے۔
حسینی کردار کی عصری معنویت:
موجودہ معاشرے کا اگر جائزہ لیا جائے تو بڑے کرب کے ساتھ یہ پہلوسامنے آتاہے جو ایک تلخ حقیقت کے طور پر نمایاں ہے کہ اہل ایمان کی بڑی تعداد حق کا ادراک رکھتے ہوئے، حق کو جانتے ہوئے، اپنی زبان کو حق گوئی سے خاموش رکھتی ہے۔
حق چھپانا یا حق بولنے سے خاموشی کہیں پہ اپنی کوئی ذاتی مفاد کے خاطر، یعنی کسی دنیاوی فائدے کے خاطر اصول قربان کر دیتے ہیں۔ کہیں پہ کسی اقتدار کی ہوس کے خاطر، کہیں پہ ڈر اور خوف کی وجہ سے ظلم برداشت کر رہے ہیں، لیکن آواز نہیں بلند کرتے۔ وہ ایک خوف اور ڈر کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ یہ سارے رویے اور یہ سارے کردار ایسے ہیں جو بالکل امام حسین علیہ السلام کے کردار سے اور ان کی سیرت سے مطابقت نہیں رکھتے.
راہ عزیمت:
موجودہ عہد میں ایسے عزیمت پسند اہل حق جاں باز کی ضرورت ہے جو امام پاک کی طرح یہ اعلان اور یہ اظہار کر سکےکہ حق کی حمایت کرنے والا اگر تنہا بھی ہو تو ہم اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ اور باطل پرستوں کی تعداد کثیر کیوں نہ ہو جائے، بلکہ وہ سو میں سے ننانوے کیوں نہ ہو جائے، پھر بھی ہم اس کی تائید نہیں کریں گے۔
اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں بھی یہی حکم فرمایا ہے. اللہ فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ اےایمان والوں، انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، اگرچہ وہ تمہارے اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا:وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
تم کمزور مت پڑو، غم نہ کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
اسی رویے کی اعلیٰ مثال اور اسی کردار کی اعلیٰ مثال امام حسین علیہ السلام نے اپنے عمل سے کربلا کے اندر پیش کیا ہے. اور ایک ایسا نمونہ عطا کیا، ایک ایسا اسوہ عطا کیا جو سب کو اپنانے کی ضرورت ہے.
کیوں نہ ہو کہ رسول گرامی وقار ﷺ نے بھی بڑی تاکید کے ساتھ یہ فرما دیا تھا حدیث ثقلین میں کہ ’’میں تمہارے درمیان دوبھاری بھرکم چیزیں چھوڑکرجا رہا ہوں، تم اس کو مضبوطی سے تھامے رہنا، تم گمراہ نہیں ہو گے‘‘وہ کیا تھی؟ ’’کتاب اللہ وعترتی اہل بیتی. ‘‘ (ترمذی)
اللہ کی کتاب اور میں اپنے اہلِ بیت، تو اہلِ بیت کی محبت اور اہلِ بیت کی اطاعت اور ان کی سیرت کیا اہمیت رکھتی ہے؟ اور اس پس منظر میں دیکھا جائے تو کربلا میں امام حسین کا کردار کتنا اہم ہے؟ اور اہل ایمان کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے؟ یہ پوشیدہ نہیں ہے.
صرف امام عالی مقام سے محبت اور عقیدت کا اظہار لفظی طور پر کرنا یہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس محبت اور عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے اخلاق، ان کے کردار، ان کا صبر، ان کا تقویٰ اور ان کی استقامت کو جیسا انہوں نے پیش کیا اپنانے کی کوشش کی جائے.
حسینی بننا یہ اصل میں اہل عزیمت کے راستے پر چلنا ہے۔ یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک کردار ہے جسے زندگی میں اپنانے کی بےحد ضرورت ہے۔ صرف جذبات سے نہیں بلکہ یہاں پر اطاعت کی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں کربلا صرف ماتم اور غم کا عنوان نہیں بلکہ اصلاح امت کا بے مثال دستور و منشورہے۔ امام عالی مقام نے ہمیں سکھایا کہ اگر دین کی حفاظت کے لیے سب کچھ گنوانا پڑے، قربان کرنا پڑے تو یہ سودا قبول کر لینا، یہ خسارے کا سودا نہیں ہے. بلکہ یہ بڑی کامیابی کا سودا ہے۔
آج اس کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر حسینی کردار پیدا کریں. سچ بول لیں اور سچ بولنے کی جرات و ہمت پیدا کریں۔ ظلم و جبر کے سامنے جبل استقامت بن جائیں۔ اور دین کے لیے قربانی کا جذبہ اور حوصلہ پیدا کریں۔
امت نے اگر یہ راستہ اختیار کر لیا تو ان کے لیے بےحد سرخروئی اور عزت و کرامت اللہ کی طرف سے متعین ہے
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔