حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر قدس سرہ حیات و خدمات
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر دور میں اپنے برگزیدہ بندوں کو دین حق کی اشاعت اور اصلاح خلق کے لیے منتخب فرمایا۔ خاتم النبیین حضرت ﷺ کی بعثت کے بعد یہ عظیم ذمہ داری آپ کی امت کے ان پاکیزہ نفوس نے سنبھالی جنہوں نے اخلاص، تقویٰ، علم اور کردار کی قوت سے اسلام کے پیغام کو دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچایا۔ انہی نفوس قدسیہ میں اولیائے کرام و مشائخ عظام کا کردار نہایت نمایاں ہے، جنہوں نے دعوت، تعلیم، تزکیہ اور اصلاح کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو ایمان و محبت کی روشنی سے منور کیا۔برصغیر ہند میں اسلام کی اشاعت اور سلسلہ چشتیہ کے فروغ کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم خدمات نگاہوں کے سامنے آتی ہیں۔آپ نے اس سرزمین پر پہنچ کر دعوت و تبلیغ، تعلیم و تربیت اور اصلاح معاشرہ کا ایسا ہمہ گیر نظام قائم کیا جس کے اثرات صدیوں بعد بھی نمایاں ہیں۔ اگرچہ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے قبل بھی سلسلہ چشتیہ کے بعض بزرگان اس خطے میں تشریف لا چکے تھے، لیکن جس وسعت، قبول عام اور تاریخی اثر پذیری کے ساتھ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلے کو استحکام عطا کیا، وہ آپ ہی کا امتیاز تھا۔ اسی بنا پر آپ کو برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کا بانی کہا جاتا ہے، اگرچہ اس سلسلے کے اصل بانی حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بعد اس روحانی امانت کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد فرمایا۔ پھر یہ فیضان حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچا، جنہوں نے اپنے مرشد کے حکم پر اجودھن (موجودہ پاکپتن) کو دعوت و ارشاد کا مرکز بنایا اور اپنی بے مثال روحانی، اخلاقی اور اصلاحی خدمات سے برصغیر میں اسلام کی جڑوں کو مزید مضبوط کیا۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں جن کے فیضان سے سلسلہ چشتیہ کو نئی وسعت اور غیر معمولی استحکام حاصل ہوا۔ آپ نے ایسے جلیل القدر خلفا تیار کیے جن میں حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت علاء الدین صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان بزرگوں نے برصغیر کے مختلف علاقوں میں دین اسلام کی تعلیمات، محبت، اخوت اور انسان دوستی کا پیغام عام کیا اور لاکھوں انسانوں کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔اگر یہ کہا جائے کہ برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کا چراغ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے روشن کیا، تو یہ بھی حقیقت ہے کہ اس چراغ کی روشنی کو آفاقی وسعت اور دوام بخشنے میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معروف اسلامی مفکر مولانا ابوالحسن علی ندوی نے آپ کو بجا طور پر "آدم ثانی" کے لقب سے یاد کیا ہے۔( تاریخ دعوت و عزیمت جلد سوم ص ،۳۶ )تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اہل چشت نے ہمیشہ دنیاوی اقتدار، شاہی درباروں اور جاہ و منصب سے بے نیازی کو اپنا شعار بنایا۔ ان کی توجہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، بندگان خدا کی اصلاح اور اخلاقی و روحانی تربیت پر مرکوز رہی۔ تاہم ان کی روحانی عظمت، علمی وقار اور کردار کی تاثیر ایسی تھی کہ عوام کے ساتھ ساتھ سلاطین اور امرائے وقت بھی ان کے فیضان کے معترف ہوئے، ان کی دعاؤں کے طلبگار بنے اور ان کی بارگاہ میں حاضری کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھا۔ منہاج سراج، ابن بطوطہ اور ضیاء الدین برنی جیسے مؤرخین نے بھی حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے خلفا کی دینی، علمی، روحانی اور سماجی خدمات کو نہایت قدر و منزلت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔زیر نظر مضمون میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی حیات طیبہ، دعوتی و اصلاحی خدمات، علمی و روحانی مقام اور برصغیر میں اسلام ،و سلسلہ چشتیہ کے فروغ میں آپ کے بے مثال کردار کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
شیخ الاسلام والمسلمین، حضرت شیخ فرید الدین مسعود اجودھنی المعروف بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے ان جلیل القدر اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال روحانی عظمت، زہد و تقویٰ، مجاہدات، دعوت و ارشاد اور اصلاح خلق کے ذریعے تاریخ اسلام پر انمٹ نقوش ثبت کیے۔ آپ نہ صرف سلسلہ چشتیہ کے ممتاز شیخ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے فیض یافتہ اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہ کے محبوب ترین خلیفہ تھے بلکہ آپ نے اپنے کردار، تعلیمات اور خلفا کے ذریعے برصغیر میں اسلام کی اشاعت اور تصوف کی روح کو نئی زندگی بخشی۔ معتبر کتب احوال کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی توحید، اخلاص، عبادت، خدمت خلق، تزکیۂ نفس اور انسانیت کی خیر خواہی سے عبارت تھی۔ آپ شہرت اور جاہ و منصب سے ہمیشہ دور رہے، لیکن آپ کی روحانی عظمت ایسی تھی کہ عوام و خواص، سلاطین و امراء اور علماء و صلحاء سبھی آپ کے علم و فضل اور ولایت کے معترف تھے۔
آپ کی ولادت باسعادت کے سال کے بارے میں تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم جمہور مؤرخین نے ۵۶۹ ھ کو زیادہ راجح قرار دیا ہے۔ سیر الاولیاء (ص ۱۷۲۔۱۷۳) کے مطابق حضرت شیخ الشیوخ فرید الحق والدین مسعود گنج شکر کی ولادت ۵۶۹ھ میں ہوئی، جبکہ آپ کا وصال ۶۶۴ھ میں ہوا اور اس اعتبار سے آپ کی عمر مبارک پچانوے برس تھی۔ اسی مؤقف کی تائید مولانا سید عبد الحی حسنی نے نزہۃ الخواطر میں کرتے ہوئے لکھا ہے: "ولد الشیخ فرید الدین مسعود بھا فی سنۃ تسع وستین وخمس مائۃ" (ص ۱۲۷)، جبکہ سن وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: "مات فی خمس محرم الحرام سنۃ اربع وستین وست مائۃ، ولہ خمس وتسعون سنۃ کما فی سیر الاولیاء" (ص ۱۲۸)۔
البتہ سید صباح الدین عبد الرحمن نے بزم صوفیہ (ص ۱۲۲) میں خزینۃ الاصفیاء (جلد اول، ص ۲۸۸) کے حوالے سے آپ کی ولادت ۵۸۴ھ نقل کی ہے، لیکن اسی مقام پر یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ سیر الاولیاء میں ۵۶۹ھ ہی مذکور ہے۔ اسی طرح مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی نے تاریخ دعوت و عزیمت (جلد سوم، ص ۳۷) میں بھی ۵۶۹ھ ہی کو اختیار کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی قول زیادہ مستند اور قابل اعتماد ہے۔
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی مسعود لقب "فرید الدین" تھا، فرید عربی زبان کا لفظ ہے اور جس کے معنی "یکتا"، "بے مثال" اور "لاثانی" کے ہیں۔ آپ کا شمار چھٹی صدی ہجری کے ان عظیم صوفیا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم، عمل اور روحانی فیضان سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ آپ کا نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اور آپ کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد ماجد حضرت جمال الدین سلیمان تھے، جبکہ والدہ ماجدہ حضرت قرسم بی بی نہایت عابدہ، زاہدہ اور صاحبِ ولایت خاتون تھیں۔
آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ یتیمی کے اس دور میں آپ کی والدہ نے نہ صرف بہترین تربیت فرمائی بلکہ عبادت، تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی ایسی دولت عطا کی جس نے آگے چل کر آپ کو ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک چور حضرت قرسم بی بی کے گھر میں داخل ہوا تو دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی اس کی بینائی جاتی رہی۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہ کسی اللہ والی خاتون کا گھر ہے۔ اس نے توبہ کی اور دل ہی دل میں عہد کیا کہ اگر بینائی واپس آ گئی تو کبھی چوری نہیں کرے گا اور اسلام قبول کرے گا۔
حضرت قرسم بی بی نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی، چنانچہ اس کی بینائی لوٹ آئی۔ اگلے دن وہ اپنے اہل و عیال سمیت حاضر ہوا، اسلام قبول کیا اور حضرت قرسم بی بی نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ دعا کی برکت سے وہ بعد میں اہل کمال میں شمار ہونے لگا۔
(سیر الاقطاب) تزکیۂ نفس اور انسانیت کی خیر خواہی سے عبارت تھی۔ آپ شہرت اور جاہ و منصب سے ہمیشہ دور رہے، لیکن آپ کی روحانی عظمت ایسی تھی کہ عوام و خواص، سلاطین و امراء اور علماء و صلحاء سبھی آپ کے علم و فضل اور ولایت کے معترف تھے۔
آپ کی ولادت باسعادت کے سال کے بارے میں تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم جمہور مؤرخین نے ۵۶۹ ھ کو زیادہ راجح قرار دیا ہے۔ سیر الاولیاء (ص ۱۷۲۔۱۷۳) کے مطابق حضرت شیخ الشیوخ فرید الحق والدین مسعود گنج شکر کی ولادت ۵۶۹ھ میں ہوئی، جبکہ آپ کا وصال ۶۶۴ھ میں ہوا اور اس اعتبار سے آپ کی عمر مبارک پچانوے برس تھی۔ اسی مؤقف کی تائید مولانا سید عبد الحی حسنی نے نزہۃ الخواطر میں کرتے ہوئے لکھا ہے: "ولد الشیخ فرید الدین مسعود بھا فی سنۃ تسع وستین وخمس مائۃ" (ص ۱۲۷)، جبکہ سن وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: "مات فی خمس محرم الحرام سنۃ اربع وستین وست مائۃ، ولہ خمس وتسعون سنۃ کما فی سیر الاولیاء" (ص ۱۲۸)۔
البتہ سید صباح الدین عبد الرحمن نے بزم صوفیہ (ص ۱۲۲) میں خزینۃ الاصفیاء (جلد اول، ص ۲۸۸) کے حوالے سے آپ کی ولادت ۵۸۴ھ نقل کی ہے، لیکن اسی مقام پر یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ سیر الاولیاء میں ۵۶۹ھ ہی مذکور ہے۔ اسی طرح مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی نے تاریخ دعوت و عزیمت (جلد سوم، ص ۳۷) میں بھی ۵۶۹ھ ہی کو اختیار کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی قول زیادہ مستند اور قابل اعتماد ہے۔
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی مسعود لقب "فرید الدین" تھا، فرید عربی زبان کا لفظ ہے اور جس کے معنی "یکتا"، "بے مثال" اور "لاثانی" کے ہیں۔ آپ کا شمار چھٹی صدی ہجری کے ان عظیم صوفیا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم، عمل اور روحانی فیضان سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ آپ کا نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اور آپ کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد ماجد حضرت جمال الدین سلیمان تھے، جبکہ والدہ ماجدہ حضرت قرسم بی بی نہایت عابدہ، زاہدہ اور صاحبِ ولایت خاتون تھیں۔
آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ یتیمی کے اس دور میں آپ کی والدہ نے نہ صرف بہترین تربیت فرمائی بلکہ عبادت، تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی ایسی دولت عطا کی جس نے آگے چل کر آپ کو ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک چور حضرت قرسم بی بی کے گھر میں داخل ہوا تو دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی اس کی بینائی جاتی رہی۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہ کسی اللہ والی خاتون کا گھر ہے۔ اس نے توبہ کی اور دل ہی دل میں عہد کیا کہ اگر بینائی واپس آ گئی تو کبھی چوری نہیں کرے گا اور اسلام قبول کرے گا۔
حضرت قرسم بی بی نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی، چنانچہ اس کی بینائی لوٹ آئی۔ اگلے دن وہ اپنے اہل و عیال سمیت حاضر ہوا، اسلام قبول کیا اور حضرت قرسم بی بی نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ دعا کی برکت سے وہ بعد میں اہل کمال میں شمار ہونے لگا۔ (سیر الاقطاب)
یہ ارشادات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ مستقبل میں سلسلۂ چشتیہ کے سب سے عظیم ستون بننے والے تھے۔
اسی لیے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی خصوصی تربیت نے حضرت بابا فرید کو روحانی کمال کے اعلیٰ مدارج تک پہنچا دیا۔ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال قریب آیا تو انہوں نے اپنی خلافت اور روحانی امانتوں کے اصل وارث کے طور پر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا انتخاب فرمایا۔ آپ نے اپنا مصلّٰی، عصائے مبارک اور دیگر تبرکات قاضی حمید الدین ناگوری کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا:
"من امانت شمارا یعنی سجادہ و خرقہ و دستار و نعلین بقاضی حمید الدین ناگوری خواہم داد، بعد از پنجم روز بشما خواہد رسانید... مقام ما مقام شما است۔"
ترجمہ: میں تمہاری امانت یعنی سجادہ، خرقہ، دستار اور نعلین قاضی حمید الدین ناگوری کے سپرد کر جاؤں گا، وہ پانچ روز بعد تم تک پہنچا دیں گے۔ انہیں حفاظت سے رکھنا، کیونکہ ہمارا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے۔(تاریخ مشائخ چشت، ص ۱۵۷)
یہ اعلان دراصل حضرت بابا فرید کی روحانی جانشینی اور خلافت کا باضابطہ اعلان تھا۔
طے کا روزہ اور گنج شکر کی وجہ تسمیہ
شیخ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے جب مجاہدہ کرنا چاہا تو اس سلسلے میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا آپ نے فرمایا "طے کا روزہ رکھو" (طے کا روزہ وہ ہوتا ہے جس میں افطار صرف پانی سے کرتے ہیں اور یہ کم از کم تین دن کا ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال، اس طرح روزہ رکھنا صوفیائے کرام کے ہاں ایک عام رسم ہے اور اکابر علمائے اسلام میں بھی بعض حضرات رمضان میں افطار صرف چائے وغیرہ سے کرنے کے بعد اور کچھ نہیں کھایا کرتے تھے۔ رحمہم اللہ، فاضل ۱۲) چناں چہ شیخ گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے طے کے روزے رکھنے شروع کردئیے، اور تین روز تک کچھ نہ کھایا، تیسرے روز افطار کے وقت ایک آدمی نے آپ کے سامنے چند روٹیاں لاکر رکھیں، آپ سمجھے کہ غیب سے آئی ہیں اور انہیں روٹیوں سے افطار کیا لیکن پیٹ نے انہیں قبول نہیں کیا اور کھایا پیا تمام باہر آگیا،
آپ نے یہ واقعہ اپنے پیر و مرشد سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ "اے مسعود! تم نے تین روز روزہ رکھنے کے بعد ایک شرابی کا کھانا کھایا لیکن اللہ کی عنایت نے تمہاری دستگیری فرمائی کہ تمہارے معدے میں اس غذا کو رہنے نہ دیا، اب جاؤ اور پھر تین دن طے کا روزہ رکھو اور غیب سے جو کچھ ملے اس کو کھاکر گزارا کرو"
چناں چہ شیخ گنج شکر نے پھر تین دن طے کا روزہ رکھا اور شام کو کوئی کھانا میسر نہ ہوا، یہاں تک کہ رات کا ایک پہر گزر گیا اور کمزوری بڑھ گئی بھوک کی حرارت سے بدن جلنے لگا، اس عالم بیتابی میں آپ نے ہاتھ بڑھا کر زمین سے کچھ سنگریزے اٹھاکر منھ میں ڈالے تو وہ شکر ہوگئے آپ کو فوراً خیال آیا کہ ہوسکتا ہے یہ بھی شیطانی کرشمہ ہو اس لئے ان سنگریزوں کو تھوک دیا اور پھر یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے جب آدھی رات ہوگئی تو کمزوری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی آپ نے پھر زمین سے کچھ سنگریزے اٹھاکر
منھ میں ڈال لئے وہ پھر شکر بن گئے آپ نے انھیں بھی تھوک دیا، آپ نے تین مرتبہ اسی طرح کیا اور ہر مرتبہ یہی کرامت ظاہر ہوتی رہی تو یقین ہوا کہ یہ نعمت خداوندی ہے اس لئے انہیں کھالیا، پھر دوسرے روز خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری دی پیر و مرشدنے فرمایا کہ "اچھا کیا جو سنگریزوں سے افطار کیا وہ غیب سے آئے تھے اب جاؤ شکر کی طرح ہمیشہ شیریں رہوگے"
اس دن سے شیخ فریدالدین مسعود کو لوگ گنج شکر کہتے ہیں اور سیرالاولیا میں بھی یہی واقعہ لکھا ہے، آپ کے گنج شکر ہونے کی وجہ تسمیہ کا ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ کچھ سوداگر شکر لے کر جارہے تھے شیخ فرید رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کچھ شکر مانگی، انہوں نے کہا "شیخ آپ کو مغالطہ ہوا ہمارے اونٹوں پر شکر نہیں بلکہ نمک ہے"، شیخ نے فرمایا "نمک ہی ہوگا"،
سوداگروں نے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد جب مال کھولاتو وہ واقعی نمک ہی تھا (وہ سمجھے کہ شیخ کی بددعا سے ایسا ہوا، اس لئے دوڑے دوڑے شیخ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ "واقعتہً ہم سے غلطی ہوئی آپ اسے معاف فرمائیں اور دعا کریں کہ وہ شکر ہوجائے" آپ نے فرمایا کہ "شکر ہوجائےگا" چنانچہ وہ نمک پھر سے شکر ہوگیا)۔
خان خاناں نواب محمد بیرم خاں صاحب جاہ و جلال اور مراتب علیا پر فائز ہونے کے باوجود فقیروں اور درویشوں سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے، اور امر خداوندی کی تعظیم کے پیش نظر مخلوق خدا پرمہربانی اور شفقت کے کامل مجسمہ اور پیکر تھے، وہ دنیا کی زندگی نیک بختی سے گزار گئے اور دنیا سے شہادت کی موت گئے کے مصداق تھے وہ (اس واقعہ ٔ شکر و نمک کے بارے میں فرماتے ہیں ؎
کان نمک جہان شکر شیخ بحر و بر
آں کز شکر نمک کند و از نمک شکر
(نمک کی کان، شکر کا خزینہ، بحر و بر کا شیخ وہ ہے جس نے شکر کو نمک اور نمک کو شکر بنادیا)
(اخبار الاخیارمترجم، ص: ۱۱۹ مطبوعہ: ادبی دنیا مٹیا محل دہلی )
حضرت بابا فرید کی ریاضتوں میں چلۂ معکوس بھی غیر معمولی شہرت رکھتا ہے۔ مرشد کے حکم پر آپ نے چالیس راتیں ایک کنویں میں الٹا لٹک کر عبادت الٰہی میں گزاریں۔ اس مقصد کے لیے آپ نے ایسی مسجد تلاش کی جہاں کنواں، درخت اور ایک رازدار مؤذن موجود ہو۔ آخرکار اُچ شریف کی مسجد حاج میں یہ موقع ملا۔ مؤذن خواجہ رشید الدین مینائی کی مدد سے آپ ہر رات کنویں میں الٹے لٹک کر عبادت کرتے اور صبح ہونے سے پہلے باہر آجاتے۔ چالیس راتوں تک جاری رہنے والے اس مجاہدے کی کسی تیسرے شخص کو خبر نہ ہوئی۔ (سیر الاولیاء مترجم، مطبوعہ ادبی دنیا، مٹیا محل دہلی)
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی محبت، اخوت اور انسان دوستی کا عملی نمونہ تھی۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے آپ کی خدمت میں قینچی بطور تحفہ پیش کی تو آپ نے فرمایا: "میں دنیا میں کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے آیا ہوں، لہٰذا مجھے سوئی اور دھاگے کی ضرورت ہے، قینچی کی نہیں۔"
یہ مختصر سا جملہ درحقیقت آپ کی پوری دعوت کا خلاصہ ہے۔ اولیائے کرام نفرتیں پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، محبت عام کرنے اور انسانیت کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی، بڑے بڑے بادشاہ اور امراء بھی آپ کے آستانے پر حاضر ہوتے، لیکن آپ نے کبھی دنیاوی اقتدار اور جاہ و منصب کو اہمیت نہیں دی۔ آپ کی خانقاہ ہمیشہ غریبوں، مسکینوں اور طالبینِ حق کے لیے کھلی رہی۔
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات بھی آپ کی روحانی بصیرت کے آئینہ دار ہیں۔
وصال : حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت، دین کی خدمت اور انسانوں کی اصلاح میں گزاری۔ سیر الاولیاء (ص ۱۷۲۔۱۷۳) اور نزہۃ الخواطر (ص ۱۲۸) کے مطابق آپ کا وصال۵ محرم الحرام ۶۶۴ھ میں ہوا اور اس وقت آپ کی عمر مبارک ۹۵ برس تھی۔ اگرچہ بعض تذکرہ نگاروں نے سال ولادت ۵۸۴ھ کی بنیاد پر دیگر آراء بھی نقل کی ہیں، جیسا کہ بزم صوفیہ (ص ۱۴۰) میں فوائد الفواد کے حوالے سے مذکور ہے، تاہم جمہور مؤرخین نے ۶۶۴ھ ہی کو راجح قرار دیا ہے۔
آج بھی آپ کا مزارِ اقدس اجودھن (موجودہ پاکپتن شریف) میں مرجع خلائق ہے، جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضر ہو کر فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی حیات مبارکہ سے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام کی حقیقی دعوت تلوار سے نہیں بلکہ کردار، محبت، ایثار، خدمتِ خلق اور اخلاق حسنہ سے عام ہوتی ہے۔ یہی وہ عظیم سرمایہ ہے جس نے آپ کو تاریخ اسلام اور سلسلۂ چشتیہ میں ہمیشہ کے لیے ایک درخشاں اور ناقابل فراموش مقام عطا کیا۔
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔