مدینہ سے کربلا تک اور کربلا سے۲۰۲۶ء تک
کربلا محض۱۰؍محرم ۶۱ ہجری کو لڑی جانے والی ایک جنگ نہیں تھی۔ یہ وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جب اسلام کے اخلاقی منصوبے کو اُن سیاسی ڈھانچوں سے الگ کر دیا گیا جو اِسلام کی نمائندگی کےمحرک تھے۔ یہ کشمکش صرف امام حسین علیہ السلام اور یزید نامی دو شخصیات کے درمیان نہیں تھی، بلکہ مذہب کی دو مختلف تعبیرات کے درمیان تھی: ایک طرف دینِ نبوت تھا اور دوسری طرف سیاسی غلبے کا مذہب؛ ایک جانب دینِ عدل تھا اور دوسری جانب ایسا ادارہ جاتی خول، جو اِقتدار کو تقویٰ کے لبادےمیں پیش کرنے کاحامی تھا۔
یہ مضمون دو باہم مربوط دلائل کو یکجا کرتا ہے۔ اول:کربلا کو نبوت اور ملوکیت کے درمیان فیصلہ کن معرکے کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کے بعد مدینہ منورہ کی حرمت پامال ہوئی اور مکہ پر حملہ کیا گیا۔ دوم: دین کا بنیادی مقصد طاغوت کے خلاف مزاحمت اور فتنے کا سدباب ہےاور امام حسین کا مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ اور پھر کربلا تک کا سفر، رسول اکرمﷺ کی رحلت کے بعد آپ کے پیغام کو پیش آنے والے سیاسی انجام کی نمائندگی کرتا ہے۔
۲۰۲۶ء کے واقعات ہمیں اِن دلائل پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔۲۸ ؍فروری ۲۰۲۶ء کو ایران ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فوجی مہم کا نشانہ بنا۔ ایران نے اس کا فوجی جواب دیا۔جب کہ بیشتر مسلم حکومتوں نے غیر جانب داری، سفارت کاری، صرف اپنے علاقوں کے دفاع یا مغربی سکیورٹی انتظامات پر مسلسل انحصار کی راہ اختیار کی۔
کربلا اور موجودہ حالات کے درمیان یہ موازنہ اس دعوے پر مبنی نہیں کہ ہر معاصر واقعہ ساتویں صدی کی تاریخ سے مکمل طور پر یکساں ہے۔ یہ دراصل ایک اخلاقی مماثلت ہے۔ کربلا ایک ایسا معیار فراہم کرتی ہے جس کی روشنی میں ہر عہد اپنے حکمرانوں، علما، اداروں، اتحادیوں اور خاموشیوں کا محاسبہ کر سکتا ہے۔
طاغوت اور فتنہ: سیاسی فساد کے لیے قرآنی اصطلاحات
قرآن ایمان کو محض ایک غیر فعال تصدیق کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ اللہ پر ایمان کو طاغوت کے انکار سے وابستہ کرتا ہے:
’’پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔‘‘ (القرآن،البقرۃ:۲،الآیۃ:۲۵۶)
لفظ طاغوت کا مادّہ حد سے تجاوز کرنے کے مفہوم سے نکلا ہے۔ قرآن میں اس سے مراد بت، باطل مرکزِ اطاعت، شیطانی اقتدار یا ایسی طاقتیں ہو سکتی ہیں جواللہ کی نافرمانی میں لوگوں سے اطاعت کا مطالبہ کریں۔ یہ لفظ صرف سورۃ البقرۃ کی آیت۲۵۶؍ میں نہیں، بلکہ قرآن کی سورۃ النساء:۶۰،۷۶،سورۃ النحل:۳۶؍ اورسورۃ الزمر:۱۷میں بھی استعمال ہوا ہے۔لہٰذا طاغوت کو صرف پتھر کے ایک بت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سیاسی نظام اس وقت طاغوتی بن جاتا ہے جب وہ صرف عسکری، معاشی یا ادارہ جاتی قوت کے ذریعے حق اور باطل کا فیصلہ کرنے کا حق اپنے لیے مخصوص کر لے۔ایک حکمران اس وقت طاغوتی بن جاتا ہے جب اس کی حکومت سے وفاداری کو عدل و انصاف سے بھی زیادہ مقدس قرار دے دیا جائے۔ ایک ریاست اس وقت طاغوتی بن جاتی ہے جب وہ حدوں سے تجاوز کرے، شہری زندگیوں کو تباہ کرے، کسی دوسری قوم کی خودمختاری پر قبضہ کرے یا خوف کے ذریعے اطاعت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
لفظ فتنہ بھی قرآن میں وسیع معنویت رکھتا ہے۔ اس سے آزمائش، ظلم و ایذا، سماجی انتشار، فساد، جبر یا ایسے حالات مراد ہو سکتے ہیں جن میں لوگوں کو حق سے دور کر دیا جائے۔ سورۃ الانفال کی آیت۲۵؍ اہلِ ایمان کو ایسے فتنے سے خبردار کرتی ہے جس کا عذاب براہِ راست صرف ظلم کرنے والوں ہی تک محدود نہیں رہے گا،بلکہ جب معاشرہ ظلم کو برداشت کرنا شروع کر دے تو اُس کے نتائج پورے معاشرے میں پھیل جاتے ہیں۔
فتنے کو محض اختلافِ رائے یا تنقید تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آمر حکمران اکثر اپنی حکومت کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو ’’فتنہ‘‘ قرار دے دیتا ہے۔ لیکن قرآنی مفہوم کے مطابق منظم ظلم و جبر، مذہبی شناخت کا سیاسی استحصال، سیاسی فائدے کے لیے معاشروں کو تقسیم کرنا اور حق کی آواز کو خاموش کرنا، بذاتِ خود فتنہ ہو سکتے ہیں۔
قرآن اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل پر مضبوطی سے قائم رہیں، خواہ عدل کا تقاضا خود اُن کے، اُن کے خاندانوں یا اُن کے سیاسی مفادات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ سورۃالنساء کی آیت۱۳۵؍ میں بیان ہوا ہے۔ قرآن یہ بھی حکم دیتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمھیں عدل سے منحرف نہ کر دے، جیسا کہ سورۃ المائدۃ کی آیت۸؍میں ہے۔ قرآن ظالموں کی طرف جھکنے سے روکتا ہے، عدل و احسان کے قیام کا حکم دیتا ہے اور اُن لوگوں کو مزاحمت کا حق دیتا ہے جنھیں ناحق اُن کے گھروں سے نکالا گیا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ آیات امام حسین علیہ السلام کے قیام اور موجودہ عہد میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
نبوی منصوبہ: مکہ سے مدینہ تک
رسول اکرم حضرت محمدﷺ کی دعوت کا آغاز مکہ میں توحید کے اعلان سے ہوا۔ لیکن توحید محض ایک مجرد اِلٰہیاتی نظریہ نہیں تھی۔ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘ کا اعلان، ہر اُس انسانی دعوے کو مسترد کرنا تھا جو مطلق اقتدار کا خواہش مند ہو۔
مکہ کے بت مذہبی علامات ضرور تھے، لیکن وہ دولت، قبائلی امتیاز، موروثی مرتبے اور سماجی غلبے کے ایک پورے نظام سے بھی وابستہ تھے۔ رسول اللہﷺ کے پیغام نے پتھر کے بتوں کے ساتھ ساتھ اُس سماجی نظام کو بھی چیلنج کیا جس کا وجود اُن بتوں اور امتیازات پر قائم تھا۔
مدینہ منورہ میں اس پیغام نے اجتماعی اور سیاسی صورت اختیار کی۔ ایمان و عدل، مشاورت، معاشی ذمہ داری، کمزوروں کے تحفظ، معاہدوں کی پابندی اور اخلاقی جواب دہی کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ قرآن نے اجتماعی معاملات میں مشاورت کا حکم دیا اور متنبہ کیاکہ دولت صرف مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔
مکہ باطل معبودوں سے آزادی کی نمائندگی کرتا تھا، جب کہ مدینہ ایک عادلانہ معاشرے کی تعمیر کا مظہر تھا۔ چناں چہ نبوی نظام دوایسے اصولوں پر قائم تھا جنھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔یعنی طاغوت کے سامنے کسی قسم کی اطاعت نہیں اور کوئی ایسا سماجی نظام کا نہیں جو فتنہ وفساد، ظلم وجبر، فرق وامتیازیا استحصال پر قائم ہو۔
امام حسین علیہ السلام کا سفر: اسلامی تاریخ کا ایک معکوس نقشہ
رسول اکرمﷺ کا تاریخی سفر؛مکہ سے مدینہ کی جانب تھا؛ یعنی اعلانِ حق سے معاشرے کی تشکیل تک اور وحی سے ایک اجتماعی نظام کے قیام تک۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کا آخری سفر؛ جغرافیائی اعتبار سے اس کے برعکس تھا۔یعنی مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلاتک۔
اس معکوس سفر کو اِس بات کا مختصر نقشہ سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی میراث کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا۔ مدینہ وہ شہر تھا جہاں رسول اکرمﷺ نے مسلم معاشرے کی بنیاد رکھی تھی۔ مکہ وہ مقدس مقام تھا جسے آپ نے بتوں سے پاک کیا تھا۔ کربلا وہ مقام بن گیا جہاں قریشی اقتدار کے سیاسی وارثوں نے رسول اللہﷺ کے اُس نواسے کو قتل کرنے کی کوشش کی جو آپ کی اخلاقی حجت اور معنوی اختیار کا مظہر تھا۔
۶۰؍ ہجری میں حضرت معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے مدینہ کے گورنر کو حکم دیا کہ وہ امام حسین علیہ السلام سے بیعت حاصل کرے۔ امام حسین علیہ السلام نے انکار کیا اور اپنے اہلِ بیت کے افراد کے ساتھ مدینہ سے مکہ روانہ ہو گئے۔ آپ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ صحرا کے کسی غیر معروف راستے سے خاموشی کے ساتھ نکل جائیں، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے مرکزی شاہراہ اختیار کی اور تقریباً چار ماہ مکہ میں قیام فرمایا۔
اس کے بعد کوفہ سے خطوط آنے لگے، جن میں امام حسین علیہ السلام کو اُس معاشرے کی قیادت کی دعوت دی گئی جو اپنے دعوے کے مطابق ایک ’عادل امام‘ سے محروم تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے جواب میں واضح فرمایا کہ امام کی ذمہ داری قرآن کے مطابق عمل کرنا، عدل قائم کرنا، حق کا اعلان کرنا اور خود کو اللہ کی راہ کے لیے وقف کر دینا ہے۔
یہ بیان بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے قیادت کی تعریف کسی تخت یا سلطنت پر قبضے کے طور پر نہیں کی، بلکہ اُسے وحی اور عدل کے ساتھ وفاداری قرار دیا۔
امام حسین حج کی تکمیل سے پہلے مکہ سے روانہ ہوئے اور اپنے خاندان اور اصحاب کے ساتھ عراق کی جانب سفر شروع کیا۔ جب یہ خبر پہنچی کہ آپ کے نمائندے حضرت مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا ہے اور اہلِ کوفہ اپنے وعدوں سےمُکرگئے ہیں تو امام حسین علیہ السلام نے اپنے ہم سفروں کو واپس چلے جانے کی اجازت دے دی۔ ان میں سے بہت سے افراد واپس چلے گئے۔
بالآخر امام حسین علیہ السلام کے مختصر قافلے کو روک لیا گیا اور ۲؍ محرم کو کربلا کے کھلے میدان میں خیمے لگانے پر مجبور کر دیا گیا۔ بعد میں دریائے فرات تک رسائی بھی محدود کر دی گئی۔ ۱۰؍ محرم کو امام حسین علیہ السلام ، خاندانِ نبوت کے افراد اور آپ کے وفادار ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کے زندہ بچ جانے والے اہلِ خانہ کو قیدی بنایا گیاکہ آپ کا سر مبارک پہلے کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔
اس طرح کربلا؛ نبوی فکر اور نبوی اخلاق کو سیاسی طور پر قتل کرنے کی ایک کوشش تھی۔
تاہم ؛تاریخ کی سطح پر یہ کوشش ناکام رہی۔ یزید کی فوج نے امام حسین علیہ السلام کے جسم کو توشہید کر دیا، لیکن آپ کی قربانی نے ملوکیت کو ہمیشہ کے لیے اسلام کی حقیقی نمائندہ بننے سے روک دیا۔ سلطنت نے میدانِ جنگ جیت لیا، مگر امام حسین علیہ السلام نے دین کی اخلاقی تعریف کو محفوظ کر لیا۔
ذبحِ عظیم
سورۃ الصافات کی آیت۱۰۷؍ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند کو ایک ’ذبحِ عظیم‘ کے ذریعے فدیہ دیا گیا۔ آیت میں صراحت کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا نام مذکور نہیں ہے۔ تاہم؛ شیعی روحانی، عرفانی اور عزادارانہ روایت میں کربلا کو قربانی کی براہیمی روایت کا کامل ترین تاریخی مظہر سمجھا گیا ہے۔
اس تعبیر کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مصیبت اور تکلیف کو بذاتِ خود پسند کیا۔ قربانی کی عظمت اس کے مقصد میں پوشیدہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے جسم اور اپنی جان کو محفوظ رکھنے کے لیے رسول اللہﷺ کے اخلاقی اختیار کو ایک ظالم حکمران کے سامنے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
امام حسین کے انکار نے شہادت کو محض موت نہیں رہنے دیا، بلکہ اُسے حق کی ایک دائمی گواہی بنا دیا۔ کربلا نے ثابت کیا کہ عدل سے محروم زندگی روحانی موت میں تبدیل ہو سکتی ہے، جب کہ حق کے دفاع میں جسمانی موت، ابدی زندگی کی ایک صورت بن سکتی ہے۔
کربلا سے مدینہ اور مکہ کی تباہی تک
۶۸۳ء میں یزید کی حکومت کے دوران مسلم بن عقبہ کی قیادت میں اموی فوج نے واقعۂ حرہ میں اہلِ مدینہ کو شکست دی۔ روایتی مسلم تاریخی ماخذ اس جنگ اور اُس کے بعد ہونے والے واقعات کو اموی اقتدار سے وابستہ سنگین ترین جرائم میں شمار کرتے ہیں۔
اس کے بعد اموی فوج مکہ کی جانب بڑھی، جہاں حضرت عبداللہ بن زبیر نے یزید کے خلاف اپنی مزاحمتی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ محاصرے کے دوران خانۂ کعبہ کو آگ سے نقصان پہنچا۔ یہ محاصرہ اُس وقت ختم ہوا جب فوج کو یزید کی موت کی اطلاع ملی۔
اخلاقی نقطۂ نظر سے یہ واقعات نہایت معنی خیز ترتیب رکھتے ہیں:
۱۔پہلے رسول اللہﷺ کے نواسے کو کربلا میں شہید کیا گیا۔
۲۔اس کے بعد رسول اللہﷺ کے شہر مدینہ کی حرمت پامال کی گئی۔
۳۔پھر اللہ کے گھر پر حملہ کیا گیا۔
یہ سب محض اتفاقی واقعات نہیں تھے۔ جب خاندانِ نبوت کی زندہ اخلاقی حجت کو مسترد کر دیا گیا تو نہ رسول اللہﷺ کے شہر کی حرمت؛ سیاسی طاقت کو روک سکی اور نہ خانۂ کعبہ کا ظاہری تقدس اُسے قابو میں رکھ سکا۔جو حکومت امام حسین علیہ السلام کو قتل کر سکتی تھی، وہ مدینہ پر بھی حملہ کر سکتی تھی۔ جو حکومت مدینہ کو پامال کر سکتی تھی، وہ مکہ پر بھی گولہ باری کر سکتی تھی۔
کربلا سے واقعۂ حرہ اور پھر مکہ کے محاصرے تک کا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ مقدس عمارتیں اُس وقت محفوظ نہیں رہ سکتیں، جب اُن اخلاقی اصولوں کو پہلے ہی ترک کر دیا گیا ہو جن کی نمائندگی وہ عمارتیں کرتی ہیں۔
مکہ اور مدینہ کی استعاراتی تباہی
آج مسلمان؛ مکہ اور مدینہ کی ظاہری عمارتوں کی غیر معمولی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن ان شہروں کی نمائندگی کرنے والے نظریات اور فلسفے کو بارہا پامال کیا جا چکا ہے۔مکہ پر استعاراتی حملہ اُس وقت ہوتا ہے جب مسلمان توحید کا اعلان تو کرتے ہیں، لیکن سیاسی طور پر ایسی طاقتوں کے سامنے جھک جاتے ہیں جو اپنے لیے لامحدود اختیار کا دعویٰ کرتی ہیں۔مدینہ پر استعاراتی حملہ اُس وقت ہوتا ہے جب حکومتیں مساجد کو تو محفوظ رکھتی ہیں، لیکن عدل کو قید کر دیتی ہیں؛ مشاورت کی آواز دبا دیتی ہیں؛ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتی ہیں؛ اقلیتوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہیں یا انسانی وقار کو خاندانی، سیاسی اور جغرافیائی مفادات کے تابع کر دیتی ہیں۔
خانۂ کعبہ کی تعظیم؛ محض اُسے ایک مہنگے غلاف سے ڈھانپ دینے سے نہیں ہوتی۔ اس کی حقیقی تعظیم اقتدار، نسل، دولت، سلطنت، فرقہ واریت اور سیاسی اطاعت کے بتوں کو مسترد کرنے میں ہے۔
مسجدِ نبوی کی تعظیم؛ محض اس کی عمارت میں توسیع سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس وقت ہوتی ہے جب رسول اللہﷺ کی تعلیم کردہ عدالت، رحمت، مشاورت اور اِنسانی وقار کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔
اِس مفہوم میں مسلم حکمرانوں اور اداروں نے بارہا استعاراتی طور پر وہی کام کیا ہے جو یزید کی فوج نے ظاہری اور جسمانی طور پر کیا تھا۔ انھوں نے دینی علامات کو تو باقی رکھا، لیکن ان علامات کے نمائندہ اصولوں پر حملہ کر دیا۔تاہم؛ یہ الزام ہر مسلمان پر بلاامتیاز عائد نہیں کیا جا سکتا۔ بے شمار مسلمانوں نے ظلم کے خلاف مزاحمت کی، مظلوموں کا دفاع کیا، جنگ کے خلاف آواز اُٹھائی اور عدل کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔یہ تنقید مسلم دنیا کے غالب سیاسی نظام سے متعلق ہے۔یعنی بادشاہتیں، فوجی حکومتیں، آمرانہ جمہوریتیں، فرقہ وارانہ ادارے اور ایسے مذہبی مراکز سے متعلق ہےجو اکثر اخلاقی حق کو رِیاستی بقا کے تابع کر دیتے ہیں۔
ایران اور کربلا کی ادارہ جاتی یادداشت
تاریخی اعتبار سے یہ دعویٰ مبالغہ آمیز ہوگا کہ صرف ایرانی قوم نے امام حسین علیہ السلام کی یاد کو محفوظ رکھا۔ عراق، لبنان، بحرین، یمن، ہندوستان، پاکستان، افغانستان، آذربائیجان، افریقہ اور دنیا بھر کی مسلم برادریوں نے کربلا کی عزاداری، علمی روایت، شاعری اور روحانیت کو زندہ رکھا ہے۔
ایران کی امتیازی حیثیت
جدید ایران نے کربلا کی زبان کو ایک ریاستی نظریے کی شکل دینے کی کوشش کی۔ ۱۹۷۹ء کے انقلاب کے بعد طاغوت کے خلاف مزاحمت، بیرونی تسلط کی مخالفت، مظلوموں کا دفاع اور امام حسین علیہ السلام کی یاد، اسلامی جمہوریہ ایران کی سیاسی اصطلاحات اور ریاستی بیانیے کا حصہ بن گئے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کی ہر پالیسی خودبخود عادلانہ قرار پاتی ہے۔ محض نعروں کے ذریعے کوئی ریاست خود کو حسینی قرار نہیں دے سکتی۔ سورۃالنساء کی آیت۱۳۵؍ اپنے خلاف بھی عدل قائم کرنے کا حکم دیتی ہے،جب کہ سورۃ المائدۃ کی آیت۸؍ دشمن کے ساتھ بھی ناانصافی سے منع کرتی ہے۔لہٰذا امام حسین علیہ السلام کا نام لینے والی کسی بھی ریاست کو اپنے شہریوں، اقلیتوں، سیاسی مخالفین، قیدیوں، خواتین، ہمسایہ اقوام اور جنگ کے دوران شہری آبادیوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی بنیاد پر بھی پرکھا جانا چاہیے۔
اِس کے باوجود۲۰۲۶ء کے بین الاقوامی نظام میں ایران وہ بڑی مسلم ریاست رہا جس کی سیاسی اور ریاستی ساخت امریکی اور اسرائیلی غلبے کے خلاف مزاحمت کے نظریے پر سب سے زیادہ کھلے طور پر قائم تھی۔جب۲۸؍ فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران نے نہ اپنی سیاسی خودمختاری سے دست برداری اختیار کی اور نہ اپنی حکومت تبدیل کرنے کے کسی بیرونی منصوبے کو قبول کیا۔ اس نے جوابی جنگ کی اور اپنی مزاحمت کو صرف ایرانی خودمختاری کا دفاع نہیں، بلکہ پورے خطے کے دفاع کے طور پر پیش کیا۔ (اے پی نیوز)
اس محدود مگر اہم مفہوم میں ایران وہاں کھڑا ہوا جہاں دوسری مسلم حکومتیں کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ یعنی ان دو طاقتوں کے ساتھ براہِ راست فوجی مقابلے میں جنہوں نے اس پر حملہ کیا تھا۔
۲۰۲۶ء کی مسلم دنیا: خاموشی، انحصار اور محدود مزاحمت
امام حسین علیہ السلام کے گرد پائی جانے والی خاموشی اور موجودہ حالات کے درمیان مماثلت بہت طاقت ور ہے، لیکن معاصر تاریخ کو پوری صحت و دیانت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
کسی مسلم ریاست نے ایران کی فوجی اتحادی بن کر اُس جنگ میں شرکت نہیں کی۔ امریکی اور اسرائیلی حملے کو روکنے یا پسپا کرنے کے لیے کسی اجتماعی مسلم دفاعی معاہدے کو فعال نہیں کیا گیا۔ مسلم دنیا کی جانب سے کوئی متحدہ سیاسی، فوجی یا معاشی محاذ وجود میں نہیں آیا۔یہ عدم موجودگی کربلا کے مرکزی المیے کی یاد دلاتی ہے۔ یعنی بڑی آبادیاں امام حسین علیہ السلام سے جذباتی عقیدت تو رکھ سکتی ہیں، لیکن سامراجی طاقت کے سامنے تنہا کھڑے مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کے خطرات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔
بعد میں خلیجی ریاستوں نے ان حملوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ میں یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ عمان نے ایرانی حملوں پر تنقید کرنے کے باوجود اُن چند ریاستوں میں جگہ بنائی جو یہ واضح کرتی رہیں کہ کشیدگی کا آغاز امریکی اور اسرائیلی حملے سے ہوا تھا۔
قرآنی تجزیہ ان حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ جارحیت کے خلاف مزاحمت کسی ریاست کو شہریوں پر حملہ کرنے یا ہمسایہ معاشروں کی خودمختاری پامال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ سورۃالمائدۃ کی آیت۸؍ واضح کرتی ہے کہ دشمنی کبھی بھی انسان کو ناانصافی کی طرف نہیں لے جانی چاہیے۔
ایران کا حسینی دعویٰ اُس وقت سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے جب وہ جارحیت کا مقابلہ کرے لیکن خود بے گناہوں کے خلاف زیادتی نہ کرے۔ جب جوابی کارروائی اندھا دھند ہو جائے تو مزاحمت کی اخلاقی وضاحت کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہ ممالک ایران کے ساتھ مل کر جنگ میں شریک نہیں ہوئے، لیکن انھیں اُن ریاستوں کے برابر بھی قرار نہیں دیا جا سکتا جو حملہ آور طاقتوں کی عملی مدد کر رہی تھیں۔
مسلم دنیا کی حقیقی ناکامی
سب سے زیادہ قابلِ دفاع الزام یہ نہیں کہ ہر مسلم حکومت نے کھلے طور پر امریکا اور اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اس سے کہیں گہری ناکامی یہ ہے کہ مسلم دنیا کے پاس ایسا کوئی آزاد اور اجتماعی نظام موجود نہیں تھا جو اُس جنگ کو روک سکتا۔مسلم ممالک کے فوجی اڈے، اسلحے کی فراہمی، انٹیلی جنس نظام، مالیاتی نیٹ ورک اور سفارتی تحفظات بدستور بیرونی طاقتوں سے وابستہ رہے۔ ہر ریاست نے الگ الگ ردِّعمل ظاہر کیا۔ ہر ایک نے اپنے شاہی خاندان، اپنی سرزمین، اپنی معیشت، اپنی فضائی حدود یا واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کی حفاظت کو ترجیح دی۔کوئی مشترکہ اخلاقی قیادت موجود نہیں تھی۔ کوئی متحدہ مسلم سکیورٹی پالیسی نہ تھی۔ کوئی اجتماعی اعلان نہ کیا گیا کہ ایک مسلم ملک کی خودمختاری پر حملہ پورے خطے کے لیے خطرہ سمجھا جائےگا۔ ایسا کوئی مربوط معاشی یا سفارتی دباؤ بھی وجود میں نہیں آیا جو جارحیت کی قیمت کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا۔
یہی کوفہ اور مدینہ کی خاموشی کی جدید صورت ہے۔ یہ مکمل زبانی خاموشی نہیں، بلکہ ایسی عملی یکجہتی کی عدم موجودگی ہے جس کے لیے کوئی قیمت ادا کرنا پڑے۔حالاں کہ بہت سی حکومتوں نے بیانات جاری کیے۔ بعض نے ثالثی اختیار کی۔ کچھ نے عارضی طور پر تعاون سے انکار کیا۔ کچھ نے صرف اپنی فضائی حدود کی حفاظت کی۔ لیکن ایسا کوئی اجتماعی نظام سامنے نہیں آیا جو اِیران اور حملہ آور طاقتوں کے درمیان کھڑا ہو سکتا۔
مسلم دنیا کے پاس دولت، افواج، ذرائع ابلاغ، مذہبی ادارے اور بین الاقوامی تنظیمیں موجود تھیں۔ جو چیز موجود نہیں تھی، وہ ان وسائل کو خودمختاری اور عدل کے مشترکہ دفاع کے لیے استعمال کرنے کا عزم تھا۔
کربلا ایک معیار ہے، سیاسی نعرہ نہیں
کربلا کسی ایک قوم، فرقے، حکومت یا نظریے کی خصوصی ملکیت نہیں ہو سکتی۔یعنی محض امریکا کی مخالفت کرنے سے ایران حسینی نہیں بن جاتا۔ اسی طرح صرف واشنگٹن کے ساتھ سیکوریٹی تعلق رکھنے کی وجہ سے سعودی عرب یزیدی نہیں بن جاتا۔ ہر حکومت کو اُن اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جائے گا جنھیں وہ عملی طور پر اختیار کرتی ہے۔کربلا کا معیار یہ سوالات اٹھاتا ہے:
۱۔کیا کوئی ریاست جارحیت کے خلاف اُس وقت بھی کھڑی ہوتی ہے جب مزاحمت مہنگی اور خطرناک ہو؟
۲۔کیا وہ اُس وقت بھی عدل کا دفاع کرتی ہے جب عدل اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہو؟
۳۔کیا وہ شہریوں کی حفاظت کرتی ہے، یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کے شہریوں کی بھی؟
۴۔کیا وہ اپنی سرحدوں کے اندر حق بات کہنے کی اجازت دیتی ہے؟
۵۔کیا وہ غریبوں اور کمزوروں کی حفاظت کرتی ہے؟
۶۔کیا وہ فرقہ وارانہ فتنے کو مسترد کرتی ہے؟
۷۔کیا وہ سکیورٹی، دولت، اسلحے یا سفارتی منظوری کے بدلے اپنا سیاسی ضمیر فروخت کرنے سے انکار کرتی ہے؟
امام حسین علیہ السلام کو کسی حکومت کی تقدیس کے لیے استعمال ہونے والی علامت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ آپ وہ معیار ہیں جس کی روشنی میں حکومتوں کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔کیوں کہ جو قرآن طاغوت کے انکار کا حکم دیتا ہے، وہی دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا حکم دیتا ہے۔ جوقرآن ظلم کے خلاف مزاحمت کی اجازت دیتا ہے، وہی حدود سے تجاوز کرنے سے منع بھی کرتا ہے۔ جو قرآن اہلِ ایمان کو بُرائی کے خلاف کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے، وہی انھیں سب سے پہلے اپنے کردار اور اپنے ظلم کا جائزہ لینے کی تلقین کرتا ہے۔
رسمی عزاداری سے اخلاقی عمل تک
ہر سال لاکھوں افراد امام حسین علیہ السلام کا سوگ مناتے ہیں۔ وہ مجالس میں شریک ہوتے ہیں، مرثیے اور نوحے پڑھتے ہیں، عَلم اٹھاتے ہیں، سبیل لگاتے ہیں اور کربلا کی پیاس کو یاد کرتے ہیں۔ یہ تمام اعمال ایک مقدس یادداشت کو محفوظ رکھتے ہیں۔لیکن اخلاقی عمل سے خالی یادداشت، سیاسی خاموشی کی ایک اور شکل بن سکتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے غم میں ماتم کرنا اور ساتھ ہی ظلم کی حمایت کرنا، جذباتی طور پر کربلا میں لیکن سیاسی طور پر لشکرِ یزید میں کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔امام حسین علیہ السلام کی تعریف کرنا، لیکن حملے کے شکار قوموں، مظلوم انسانوں، سیاسی قیدیوں، بھوک سے تڑپتے بچوں یا شہری زندگی کی تباہی سے بے پروا رہنا، رسم کو حقیقت سے جدا کر دینا ہے۔صرف دشمن کے طاغوت کی مذمت کرنا، لیکن اپنے حکمران یا اپنی ریاست کے طاغوتی طرزِ عمل کو نظر انداز کرنا حسینی اخلاقیات نہیں ہے۔
کربلا کا پیغام یہ ہے کہ حق کا فیصلہ تعداد، عسکری برتری، دولت، سفارتی قبولیت یا کسی حکومت کی بقا سے نہیں ہوتا۔ممکن ہے کہ حق صرف بہتر افراد کے ساتھ کھڑا ہو،جب کہ دوسری جانب ایک پوری سلطنت موجود ہو۔
۲۰۲۶ء میں کون کھڑا ہوا؟
الحاصل ؛امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے مکہ اور پھر کربلا تک کا سفر، رسول اکرمﷺ کی سیاسی اور اخلاقی میراث کو پیش آنے والے انجام کو معکوس ترتیب میں دوبارہ ظاہر کرتا ہے۔مدینہ عادلانہ معاشرے کی نمائندگی کرتا تھااور مکہ بتوں سے آزادی اور صرف اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی علامت تھا۔ کربلا اس کوشش کا مقام بن گیا جہاں ملوکیت نے اُن دونوں اصولوں کو مٹانے کی کوشش کی۔
مدینہ اور مکہ پر ہونے والے بعد کے حملوں نے ثابت کر دیا کہ جب امام حسین علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا تو اِسلام کے ظاہری مقدس مقامات بھی سیاسی طاقت سے محفوظ نہ رہ سکے۔بعد کی صدیوں میں مسلم معاشروں نے اسلام کی عمارتوں، رسومات اور اصطلاحات کو تو محفوظ رکھا، لیکن اس کے اخلاقی جوہر کو بارہا بادشاہت، سامراج، استعمار، قوم پرستی، آمریت اور بیرونی سیاسی و فوجی انحصار کے سامنے قربان کر دیا۔
۲۰۲۶ء میں ایران ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملے کے خلاف فوجی طور پر کھڑا ہوا، جب کہ کوئی دوسری بڑی مسلم ریاست اس کے ساتھ براہِ راست اس معرکے میں شریک ہونے کے لیے تیار نہ تھی۔ یہ حقیقت معاصر سیاسی تاریخ اور مزاحمت کی یادداشت میں ایران کو ایک منفرد مقام دیتی ہے۔لیکن ایران کے اس قیام کو اخلاقی کمال کے غیر تنقیدی دعوے میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ حضرت محمدمصطفیٰﷺ اور امام حسین علیہ السلام کی میراث کسی قوم، نسل یا ملک کی ملکیت نہیں، بلکہ عدل کی میراث ہے۔
ایران اسی حد تک اس میراث کی پاسداری کرتا ہے جس حد تک وہ طاغوت کا مقابلہ کرتے ہوئے خود زیادتی سے بچتا ہے؛ فتنے کی مخالفت کرتے ہوئے جائز حق گوئی کو نہیں دباتا؛ اور اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے بے گناہ انسانی جانوں کی حرمت پامال نہیں کرتا۔اسی طرح باقی مسلم دنیا کا محاسبہ صرف اُس کے جاری کردہ بیانات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُس سیاسی نظام کی بنیاد پر ہونا چاہیے جواس نے قائم کیا ہے۔
کربلا کا سوال آج بھی زندہ ہے
۱۔جب کوئی سلطنت اطاعت کا مطالبہ کرے تو اِنکار کون کرتا ہے؟
۲۔جب حق بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑے تو آواز کون اٹھاتا ہے؟
۳۔جب مظلوم تنہا کھڑا ہو تو مسجد کی محفوظ فضا سے نکل کر کھلے میدان میں کون آتا ہے؟
۶۱؍ ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان دے کر اُس سوال کا جواب دیا تھا۔چناں چہ ہر عہد میں اور۲۰۲۶ء میں بھی؛ ہم سب کو اِس سوال کا جواب دوبارہ دینا ہوگا۔
حوالہ جات
(الف)القرآن
۱۔سورۃ البقرۃ:۲۵۶
۲۔سورۃآل عمران:۱۰۴
۳۔سورۃ النساء:۶۰،۷۶،۱۳۵
۴۔سورۃ المائدۃ:۸،۲۴،۱۱
۵۔سورۃ النحل:۳۶،۹۰
۶۔سورۃ الزمر:۱۷
منتخب تاریخی مآخذ
۱۔الطبری: تاریخ الطبری، جلد:۱۹، خلافتِ یزید بن معاویہ، مترجم آئی. کے. اے. ہاورڈ
۲۔ولفرڈ میڈلنگ:حسین بن علی:شیعیت میں حیات اور اہمیت، انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا
۳۔ولفرڈ میڈلنگ: جانشینیِ محمدﷺ
۴۔جی. آر. ہاؤٹنگ:اسلام کا پہلا شاہی خاندان
۵۔ہیو کینیڈی: پیغمبر اور خلافتوں کا عہد
۶۔ محمود ایوب: اسلام میں نجات، بخش، مصیبت و قربانی
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔