میں محض ایک اسکالر یا مبصر کی حیثیت سے گفتگو نہیں کر رہا، بلکہ دل کی گہرائیوں سے مخاطب ہوں۔
آج ہم ایک قوم، ایک معاشرہ اور ایک تہذیب کی حیثیت سےاپنے اجتماعی زندگی کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ہمارےسامنے جومشکلات درپیش ہیں وہ صرف سیاسی یا معاشی نہیں، بلکہ بنیادی طورپر اخلاق بھی ہیں اور ہمارے ضمیرونیت کی سخت آزمائش بھی۔ آج دنیا میں بے انصافیوں کی جڑیں جس قدرمضبوط ومستحکم دکھائی دیتی ہیں اُس کے پیچھے ایک قدیم ترین خواہش اورکمزوری کارفرما ہےجودوسروں پر غلبہ اورتسلط پانے پر برانگیختہ کرتی ہے۔چناں چہ ہم کبھی افکار کے ذریعے، کبھی دولت و اقتدارکےذریعے،کبھی نظریات کے ذریعے تو کبھی مذہب کے پس پردہ دوسروں پرغلبہ وتسلط کے خواہش مندرہتے ہیں۔ ہم وہاں بھی اپنی بات پر اِصرار کرتے ہیں جہاں عاجزی وانکساری کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں اپناکنٹرول چاہتے ہیں جہاں ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں فتحیابی کے خواہش مند ہوتے ہیں جہاں افہام و تفہیم(ایک دوسرے کوسمجھنے) کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن تاریخ ہمیں ایک کڑوی حقیقت سے آگاہ کرتی ہےکہ جب ہم کسی بات پر حد سے زیادہ یقین اوراصرار کرنے لگتےہیں، تو یہی یقین واصرار؛ عدل کا دشمن بن سکتاہے،یعنی جب انسان خود کو سچا اور دوسروں کو غلط سمجھنے لگے، تو وہ عدل کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ جس لمحے ہم خود کو صادقِ کامل اور صحیح مان لیتے ہیں،تواُس وقت دوسروں کی سننا، اُن سے سیکھنا اور اپنے سے الگ رائے رکھنے والوں کو اِنسان سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب کہ ہمیں ایسا نہیں بنایا گیا کہ ہم ہر اپنی بات کو صد فیصد درست مان لیں۔ شک وریب انسانی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے،یہ کوئی خامی یا بُرائی نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سےعطاکردہ ایک تحفہ ہے،جو اِنسان کو سوچنے، سمجھنے اور حق کی تلاش وجستجوپر اُبھارتا ہےاوریہی وہ مقام ہے جہاں عقیدہ پختہ ہوتاہے، ضمیر بیدار ہوتاہے اور عقل و فہم پروان چڑھتی ہے۔پھر چوں کہ ہم اللہ کی طرف اپنےناقص علم وفہم کےساتھ سفر کرتےہیں اور اِنسانی حدود میں رہتے ہوئے اُس ابدی حقیقت تک پہنچنے کی جدوجہد کرتے رہتےہیں۔
لہٰذا شک سے ڈرنے کے بجائےاُس کے ساتھ جینا سیکھیں۔ یہ شک ہمیں عاجزی وانکساری سکھاتاہے۔یہ ہمیں رحم دل بناتا ہے۔ یہ ہمیں حقیقت سے روشناس کراتاہے کہ کوئی بھی تنہا انسان، برادری یاپھر نسل کامل صداقت پر دسترس نہیں رکھتی۔ پھرحدسے زیادہ یقین (کٹرپن) اکثر دیواریں کھڑی کرتا ہے، جب کہ عاجزی پُل بناتی ہے۔خود یقینی؛دلوں کو بانٹتی ہے؛ عاجزی متحد کرتی ہے۔ اندھایقین؛ دل کو سخت کر دیتا ہے؛ جب کہ عاجزی اُسے پاکیزگی، ہم آہنگی اور رواداری کے لیے کشادہ وفراخ کر دیتی ہے۔
’’چناں چہ غیر یقینی صورتِ حال پر ہمارا ردِّعمل کیا ہونا چاہیے؟تو اِس کا جواب مایوسی نہیں ہے۔ اس کا جواب حوصلہ ہے۔ اس کا جواب ایمان اور یقین ہے۔ایمان؛ شک کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہے؛ بلکہ یہ شک کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ ہے۔ حوصلہ ہی وہ شئےہے جو یقین کو عمل میں اور نظریات کوایثارو قربانی میں بدل دیتی ہے اور جب ہم ایسے حوصلے کی مثالیں تلاش کرتے ہیں، تو ہمیں صرف وہ روشن ہستیاں نظرآتی ہیں جو ہمارے اخلاقی تصورات کی رہبری کرتی چلی آ رہی ہیں۔‘‘
آئیں؛اِس ضمن میں ہم امام حسین علیہ السلام کو یاد کریں، جنھوں نے انسانیت کو یہ سبق دیاکہ غیرت و وقار ؛ اقتدار سے کہیں زیادہ اہم ہے اور حق وصداقت کی اہمیت ؛بقا سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔تمام تر مشکلات کے باوجود اُنھوں نے ناانصافی کے خلاف آواز بلندکی اورسبق دیا کہ عدل وانصاف؛ حوصلے کا تقاضا کرتا ہے اور ظلم وجبر کے سامنے خاموشی اختیار کر لینا ظالم وجابرکےآگے سرتسلیم خم کر دینے کے مترادف ہے۔
آئیں؛حضرت زینب سلام اللہ علیہا کوبھی یاد کریں، جن کی بےخوفی اور اِستقامت نے ناقابل فراموش سانحے کو ایک ابدی گواہی میں بدل دیا۔ جب ظالموں نے نشانِ عدل کو مٹادینا چاہا، تو وہ عدل کی آواز بن گئیں۔ جب اقتدار نےحق کو خاموش کردینا چاہا، تو اُنھوں نے حق کے پیغام کو نسلوں تک پہنچایا۔ اُن کے ذریعے ہی ہم نے یہ سیکھا کہ حق کو یاد رکھنا خود ایک مزاحمت ہے اورحق کی گواہی دینا عدل کی اعلیٰ ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔
امام حسین اور سیدہ زینب کے یہ اَسباق؛ محض اُس لیے نہیں ہے کہ ہم اُس کی تعریف کریں، بلکہ اُسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا اوراُس پر عمل کرناانتہائی ضروری ہے۔ اُن کی داستانیں ہم میں سے ہر ایک کو یہ غورکرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم کیسی شخصیت کے حامل انسان بنیں اور ہم اپنے بعد کیسا معاشرہ چھوڑ کر جائیں ۔
عدل؛ محض کتابوں میں لکھا ہوا کوئی اُصول یا منبروں اور اَیوانوں سے بلند کیا جانے والا کوئی نعرہ نہیں، بلکہ عدل کا آغاز ایک دوسرے کے تئیں ہماری ذمہ داریوں سے ہوتا ہے، اِنسانوں کے مقدس وقار کو تسلیم کرنے سے ہوتا ہے، ایک دوسرے پراعتمادو یقین برقرار رکھنے، ایک دوسرے کی حفاظت کرنے اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کو بےیارومددگارنہ چھوڑنے سے ہوتا ہے۔
’’اِس سے پہلے کہ ہم قوموں اورریاستوںمیں عدل کے قیام کی بات کریں، ہمیں اپنے پڑوسیوں اورہمسایوں کے ساتھ عدل کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ ہم دنیا میں عدل تلاش کریں، اُسےہمیں اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا۔ منصف ہونا ایک دوسرے کے تئیں ہمارا فرض، تاریخی اعتبارسے ہماری ذمہ داری، اوراللہ کے حضور ہماری جواب دہی ہے۔‘‘
’’آئیں؛ہم اُس عہد سے بے وفائی نہ کریں جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ خوف پر حوصلے کو، تکبر پر عاجزی کو، تسلط پر ہمدردی کو اور ناانصافی پر عدل کو ترجیح دیں اور ایسا کرتے ہوئےاےکاش! امام حسین علیہ السلام اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی عظیم روایات کا پاس ولحاظ ہم رکھ سکیں،نہ صرف اپنے گفتگومیں، بلکہ اپنی عملی زندگیوں میں بھی۔
چناں چہ ہم جہاں کہیں بھی ہیں جابرطاغوتوں اور فتنوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ایک دوسرے کے تئیں یہ ہمارا فرض ہےکہ ہم حق کےلیےکھڑےہونے کاحوصلہ اورجرأت پیدا کریں، اپنے ایمان و عقیدے پر اِعتمادویقین رکھیں، انسانیت پر یقین رکھیں اور حق کے لیے کھڑے ہونے اور صحیح فیصلہ کرنے کے لیے ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ گرامی کی طرف دیکھیں۔کیوں کہ امام حسین علیہ السلام نے عملی طور پرواضح کردیا ہے کہ صحیح راستہ اور صحیح فیصلہ کیا ہے!
اللہ،ہمیں اپنے عقیدےپرقائم رکھے،اہل بیت اطہارسے محبت عطاکرے،انسانیت کے تئیں جواب دہ بنائے اورتکبروغرور کی جگہ عاجزی وانکساری کی دولت سے مالا مال فرمائے۔(آمین)
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔