برصغیر ہندوپاک میں دین کی تبلیغ کے حوالے سے مشائخ چشت کاکردار اہم رہا ہے
دین کی تبلیغ ایک بڑا کام ہے، جس کافریضہ اَنبیاومرسلین کے بعد صحابۂ کرام نے اپنے ذمہ لیا اور اُس کو بخوبی انجام بھی دیا۔ پھریہ سلسلہ دراز ہوا، اور تابعین وتبع تابعین سے ہوتے ہوئے صوفیائے کرام تک پہنچا۔اِنھوں نے بھی اِس فریضے کو بحسن وخوبی ادا کیا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔(اِن شاءاللہ)
برصغیر ہندوپاک میں دین کی تبلیغ کے حوالے سے مشائخ چشت کاکردار اہم رہا ہے۔ یہ حضرات جس علاقے اور خطے میں گئے بندگانِ خداکے ایمان وایقان میں ایک صالح تبدیلی لانے کا کارنامہ انجام دیااورجہاں اُنھوں نےاپنے قول وعمل سےاُن کے اندر تقویٰ وطہارت کا جذبہ پیدا کیا وہیں اُنھیں خالق حقیقی کے قرب کی لذت سےبھی آشنا کیا۔
مشائخ چشت میں ایک بڑا نام حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر کا ہے۔آپ نے محض عوام الناس کی تعلیم وتربیت نہیں فرمائی بلکہ خواص بھی آپ کے زیرتعلیم وتربیت رہنے میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ کی نگاہِ کیمیااثر کی طلب میں سبقت لے جانے کو بے قرار رہتے تھے۔ اِس تعلق سےشیخ جمال الدین ہانسوی، حضرت صابر پاک کلیری، خواجہ نظام الدین اولیا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اِن میں حضرت شیخ نظام الدین اولیابالخصوص مرکز توجہ ہیں کہ فریدی شہبازیت کا سہرا اُنھیں کےسربندھا ،یعنی اُنھیں بابافرید کے جانشین ہونے کا شرف حاصل ہوا، اورخواجہ نظام الدین اولیانے بابافریدمسعودگنج شکرکی ظاہری اور باطنی ہردواِعتبارسے باکمال وجمال جانشینی کا فریضہ انجام دیا۔
حالاں کہ اِن مشائخ کے پردہ فرمائے ہوئے صدیاں گزرگئیں لیکن اُن کی تعلیمات وفرمودات سےفیضیاب ہوناآج بھی آسان ہے اور ملفوظاتِ چشت اِس کے بہترین ذرائع ہیں، مثلاً: ’’فوائد الفواد‘‘اور’’سیرالاولیاء‘‘جیسے مجموعے۔اِن میں’’فوائد الفواد‘‘ تو رُوح کا درجہ رکھتا ہے۔ کیوں کہ اِس مجموعے کو حرف بہ حرف خود خواجہ نظام الدین اولیا نے ملاحظہ فرمایاہے اور ضروری اصلاح بھی فرمائی ہے۔یہ جہاں خواجہ نظام الدین اولیا کے ملفوظ کا مجموعہ ہے وہیں اُس میں جگہ جگہ بابا فرید کے ملفوظات بھی بیان ہوئے ہیں اور اِس کے راوی خود خواجہ نظام الدین اولیا ہیں جن کے معتبر ومعتمد ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
ذیل میں شیخ الشیوخ حضرت شیخ فریدالدین گنج شکر قدس سرہٗ کی تعلیمات وفرمودات سے کچھ منتخبات پیش کیے جارہےہیں اِس اُمید کے ساتھ کہ یہ ہم سب کے لیے دین ودنیا دونوں میں بخوبی نافع وخیر بخش ہوں۔ملاحظہ کریں:
ترک دنیا اوراُس کے فوائد
سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ بیان کرتے ہیں:
شیخ کبیر بابافریدنے فرمایا:چار چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں سات سو پیروں سے سوال کیا گیاتو سب نے ایک ہی جواب دیا :(۱) لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند کون ہے؟اِس کا جواب دیاگیا:دنیا کو ترک کرنے والا۔(۲) لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے ؟اِس کا جواب دیا گیا: جو کسی حال سے متغیر نہ ہو۔(۳) لوگوں میں زیادہ مال دار کون ہے؟جواب دیا گیا: قناعت کرنے والا۔ (۴) لوگوں میں زیادہ محتاج کون ہے؟جواب دیاگیا: قناعت ترک کرنے والا۔
مزید شیخ کبیر نے یہ(حدیث) بھی(بیان) فرمائی: اللہُ يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ یَّرْفَعَ إِلَیْہِ یَدَیْہِ وَیَرُدُّھُمَا خَائِبَیْنَ۔
(سنن ترمذی، حدیث:۳۸۶۵)
خدائے تعالیٰ بندے کے اس کی طرف ہاتھ اٹھانے اور پھر اُسے نامراد لوٹادینے سے حیا فرماتا ہے۔
(سیر الاولیاء،نکتہ:پنجم،ص:۱۶۸)
۱۔پہلے سوال میں ترک دنیا کی ترغیب دی گئی ہے۔ترک دنیاکا مطلب یہ ہے کہ انسان، دنیا کی محبت سے خود کو آزاد کرلے ،اُس کے دل میں دنیا کی محبت نہ ہو بلکہ خالق ِدنیا کی محبت ہو۔ دنیا کا حصول اُس کی دلی تمنا نہ ہو بلکہ اُس کا دل خدا کی محبت سے شادوآباد رہے۔ صوفیائےکرام کے نزدیک ترک دنیا کا مطلب یہی ہے اور دین بھی ہم سےیہی مطالبہ کرتا ہے ۔
ایک روایت میں دنیا کی محبت کو تمام بُرائیوں کا جڑ کہا گیا ہے،جس کامطلب بھی یہی ہےکہ انسان اس دنیا میں رہے تو دنیا طلبی اُس کی زندگی کا مقصد نہ ہو بلکہ اس کا مقصد خالق دنیا کو پانا ہو۔جو اُس مقصد سے غافل ہوتا ہے اُس کے اندر دنیا کی محبت جڑپکڑ لیتی ہے اور پھر اُس سے جملہ خرافات وبُرائیاں جنم لینے لگتی ہے اور اُس کا اثر اُس کی ذات سے دیگر اَفراد تک پہنچتا ہے اور پھر یہ سلسلہ معاشرے کی تباہی وبربادی تک جا پہنچتا ہے ۔
۲۔دوسرے سوال میں صفت ِبزرگیت بتائی گئی ہےکہ جس کے دل پر دُنیا اور دنیا کی کوئی بھی چیز اثر اندازنہ ہو۔مطلب یہ ہےکہ جو شخص ہر حال میں صابر وشاکر ہو، خواہ اُن پرکیسی بھی پریشانیاں اور مصیبتیں آئی ہوںوہ پریشانیاں اور مصیبتیں اُن کی زندگی میں کوئی تبدیلی پیدا نہ کرسکیں وہ اپنی جگہ پرقائم رہے ۔وہ بادِ مخالف سے کبھی نہ گھبرائے بلکہ ہمہ وقت اللہ سبحانہ کی جانب مائل رہے، تو ایسا شخص لوگوں میں سب سے بزرگ اورعظیم ہے ۔
اورایک مومن کی صفت بھی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں راضی برضا رہے اور کسی ناگہانی مصائب وآلا م سے پریشان نہ ہو، بلکہ ان پریشانیوں کو رضامندی کے ساتھ قبول کرے۔ مشائخ کی زندگی ہمیں اس بات کی عملی تصویر دکھا تی ہے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی حال میں اپنے قدم میں جنبش نہیں آنے دیتے،خواہ اُن پر کیسی بھی دقتیں اور پریشانیاں آجائیں وہ ہر حال میں ثابت قدم رہتے ہیں اور یہی چیزیں اُن کے اندر بزرگی پیدا کرتی ہیں ۔
۳۔تیسرےسوال میں زیادہ دولت مند شخص کی نشانی بتائی گئی ہےکہ جو قناعت کرتا ہو۔ قناعت کا لغوی معنی قسمت پرراضی رہنا ہے اور تصوف کی اصطلاح میں روز مرہ استعمال ہونے والی چیزوں کے نہ ہونے پر بھی راضی رہنا قناعت ہے۔
(التعریف للجرجانی،ص:۱۲۶)
حضرت محمد بن علی ترمذی فرماتے ہیں: قناعت یہ ہے کہ انسان کی قسمت میں جو رزق لکھا ہے اس پر اُس کا نفس راضی رہے۔(رسالہ قشیریہ،باب القناعۃ،ص:۱۹۷)
یعنی اللہ سبحانہ نے انسان کے حق میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر قانع ہوجانا ہی دولت مندی کی علامت ہے۔ اس سے بڑا مال دار دنیا میں کوئی نہیں ہوتا جسے قناعت کی دولت نصیب ہوجاتی ہے۔کیوں کہ جوصابروقانع ہوتا ہے اُس کی زندگی پُرسکون ہوتی ہے۔ اُس پر پریشانیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتاہے،اور قناعت کرنے والے کو اللہ سبحانہ بھی اپنادوست رکھتاہے۔روایت میں ہے:
حضرتِ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل پرہیزگار، قناعت پسند اور گمنام بندے کو پسند فرماتا ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الزہد ،حدیث:۲۹۶۵)
ہربندہ اپنا محاسبہ کرے کہ وہ کس قدرقناعت پسند ہے۔لیکن ہمارا حال تو یہ ہےکہ ہمارے اندر کچھ بھی قناعت شعاری باقی نہیں رہی۔ اللہ سبحانہ نے جس قدرنعمتیں دے رکھی ہیں اُن نعمتوں پر قانع ہونے کے بجائے مزید کی طلب میں بھاگم بھاگ مچائے ہوئے ہیں،بلکہ مزیددرمزید کے چکر میں بے راہ روی کے شکار رہتےہیں،حلال وحرام کی تمیز ختم ہوگئی ہے اور ہماری ناعاقبت اندیشی یہ ہےکہ ہمیں اِس کااحسا س بھی نہیں۔جب کہ قناعت پسندی ہرمومن کا شعار ہونا چاہیے،چناں چہ شیخ کبیر بابافرید قناعت پسندی کی تعلیم دےکر ہربندۂ مومن کو ربانی قہر اور جباری پکڑ سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں،تاکہ دین ودنیا ہرجگہ سرخرو رہے ۔ ۔چوتھے سوال میں محتاج بندے کی نشانی بتائی گئی ہےکہ بےصبری اور دنیا کی طلب انسان کو محتاج بنادیتی ہے۔ اِس لیےماسوا اللہ سے بےنیازی اختیار کرے، اورصرف اور صرف اپنے خالق ومالک کا نیازمنداورمحتاج بنےکہ یہی خدائی تعلیم ہے ۔اِسی تعلیم کو آگے بڑھاتے ہوئے بابا فرید فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ محتاج بےصبرااوردنیاسے لولگانے والاشخص ہے، کیوں کہ جس کی زندگی قناعت سے خالی ہے وہی سب سے زیادہ محتاج ہے اورترکِ قناعت سے انسان دوسرے کا محتاج ہوجاتاہے۔جب کہ ایک مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ ہرحال میں اللہ سبحانہ ہی پر توکل کرے اور اُسی کا محتاج رہنے کی دعاکرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی محتاجی اورمفلسی سے اللہ کی پناہ مانگتےتھے۔ جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعافرماتے تھےکہ’’یااللہ! میں فقر ومحتاجی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابو داؤد ،باب الاستعاذۃ،حدیث:۱۵۴۴ )
اخیرمیں بابافرید اللہُ يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ یَّرْفَعَ إِلَیْہِ یَدَیْہِ وَیَرُدُّھُمَا خَائِبِیْنَ کے پردے میں اپنے مرید ین ومتوسلین اور عام بندگانِ خدا کو اِس بات کی طرف رہ نمائی کرتے ہیں کہ اپنے رب سے نااُمید نہ ہوں بلکہ رب کی ذات تو ایسی ہے کہ جب اُس کا کوئی بندہ اس کی بارگا ہ میں ہاتھ پھیلاتاہے تو اُسے اِس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ اپنے بندے کو نامراد وناکام لوٹا دے ،بلکہ وہ اپنے بندے کی التجاؤں کو سنتا ہے اور اُس کی طلب وحاجت کو پوری کرتا ہے ۔
محبت و تعلق کی اُستواری
مشائخ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ کسی سے نفرت نہیں کرتے اور نہ کسی کو اپنی بارگاہ سے بھگاتے ہیں، بلکہ وہ سب سے محبت رکھتے ہیں اور سب کواِسی بات کا درس بھی دیتے ہیں۔ وہ قولاً اور فعلاً اِس پرمضبوطی کے ساتھ عامل رہتے ہیں کہ’’توبرائے وصل کردن آمدی نے برائے فصل کردن آمدی‘‘۔وہ خود بھی بندگانِ خدا سے تعلق بنائے رکھتے ہیں اورایک دوسرے کو بھی آپس میں تعلق جوڑے رکھنے کی تاکید وتلقین کرتے رہتے ہیں۔اِس سلسلے میں بہت ہی مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص نے شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہٗ کی خدمت میں چھری بطورِتحفہ پیش کیا۔اِس پرشیخ نے وہ چھری اُس کو واپس دےدی اور فرمایاکہ میرے پاس چھری نہ لاؤ بلکہ سوئی لاؤ، کیوں کہ چھری کاٹنے ( توڑنے ) کا آلہ ہے اور سوئی جوڑنے کا آلہ ہے۔(فوائد الفواد، جلد: ۵ ،مجلس: ۵ )
گویا آپ نے اِس قول سے اُس شخص کی تربیت فرما دی کہ انسان کو جوڑنے کا کام کرنا چاہیے نہ کہ توڑنے کا، اِس لیے کہ دین میں توڑنے کی تعلیم نہیں بلکہ جوڑنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب کو جوڑنے کے لیے ہی مبعوث کیے گئےتھے۔
حضرت بابا فرید کی حیات میں یہ باتیں بدرجہ اتم موجو د تھی کہ آ پ کی بارگاہ میں ہر مسلک ومشرب کے پیاسے آتے اور آپ سے سیراب ہوتے۔محبت کی تعلیم ایسی تعلیم ہے جس کے ذریعےبڑے سے بڑے دشمن کو بھی زیر کیا جاسکتا ہے، اُس کے برعکس کسی اور طریقے سے دشمن کو زیر کرنا بڑا کٹھن امر ہے۔جیسا کہ آقائےنامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اِس بات پر شاہد ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبت کی فضا قائم نہ کی ہوتی اور لوگوں کو اُلفت ومحبت کا درس نہ دیےہوتے تو آج دنیا محبت کےدوبول کے لیے ترس جاتی اور ہرچہار جانب نفرت ہی نفرت کا غلغلہ ہوتا۔ لیکن اللہ سبحانہ نے آپ کو محبت ومودت کی تاسیس کےلیے مبعوث کیا اور آپ نے بھی اپنی مختصر سی حیات طیبہ میں انسانوں کے قلوب واذہان میں محبت والفت کی مہریں ثبت کردیں اور دنیا اَمن وامان اور چین وسکون کی آماجگاہ بن گئی ۔
موجودہ حالات میں جب کہ لوگ محبت سے دوراور نفرت کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ دنیا کاایک بڑا طبقہ آپسی بغض ونفرت اور مذہبی عصبیت میں گرفتارہے۔ذاتی مفاد کی خاطر اِنسانوں کی عزت سے کھیلنا عام سی بات ہوگئی ہے ۔ ہرگاؤں محلہ نزاع کا میدان بن گیاہے۔ایسے ماحول میں بابا فرید کی اِن تعلیمات کو عام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔
وقت کی قدروقیمت
ایک مقام پربابافرید فرماتے ہیں: امام شافعی کا مقولہ ہے کہ میں نے پورے دس سال صوفیہ کی شاگردی اختیارکی تب کہیں جاکر مجھے وقت کی قدر معلوم ہوئی۔ (سیر الاولیاء، نکتہ:پنجم،ص:۱۶۸)
امام شافعی کا قول پیش کرکےآپ نے اپنے مریدین ومتوسلین کو وقت کی قدر واہمیت کی طرف توجہ دلائی کہ وقت اللہ سبحانہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر کسی نے وقت کو ضائع کیا تو وقت اُسے ضائع کردے گا۔جیساکہ عربی کا ایک مقولہ ہے: اَلْوَقْتُ کَالسَّیْفِ إِنْ لَّمْ تَقْطَعْہُ قَطَعَکَ۔وقت ایک تلوار کی مانند ہے، اگر تم اُسے صحیح طورپر اِستعمال نہیں کروگے تو وہ تمھیں ہی نیست ونابود کردےگا۔
بالخصوص ٹکنالوجی کے اِس عہد نے انسانی ذہن اور وقت کو بھی اَپنے دامن میں سمو لیا ہے۔ موبائل اور اِنٹرنیٹ کی ایجادات جہاں انسان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کیں ہیں، وہیں اس کے مہلک اور منفی اثرات بھی رونماہو رہے ہیں۔ انسان اکثر اوقات موبائل میں مصروف رہتا ہے جو اُنھیں معاشرے محض خاندان سے الگ نہیں کرتا ہےبلکہ اُنھیں نفسیاتی اضطراب میں بھی مبتلا کردیتا ہے۔اِس لیے وقت کی قدر اور اُس کادرست استعمال انسان کے لیے باعث ِخیر ہے۔
زبان کی حفاظت
شیخ الاسلام بابافرید گنج شکرفرماتےہیں کہ مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ کا قول ہے: اَلْکَلَامُ مُسْكِرُ الْقُلُوْبِ إِنَّ أَوَّلَ الْکَلَامِ وَاٰخِرَہٗ إِنْ کَانَ لِلہِ فَتَکَلَّمْ وَإِلَّا فَاسْکُتْ۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو دل کو غافل اور بد مست کردیتی ہیں، اگرکلام کا آغاز واَنجام اللہ سبحانہ کے لیے ہوتواُسے کرو ،ورنہ خاموشی اختیار کیے رہو۔(سیر الاولیاء، نکتہ:پنجم،ص:۱۶۸)
اِس قول میں ایک اہم نکتے کی طرف رہ نمائی فرمائی ہےکہ کوئی بھی بات ہو بولنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لو کہ اُس کا انجام کیا ہوگا۔ آیا وہ بات اللہ سبحانہ کی رضا کے لیے ہے یا نہیں۔ اگر اُس میں اللہ سبحانہ کی رضا شامل ہے،تو وہ بات بولی جائے، ورنہ خاموشی اختیار کی جائے۔اِس تعلق سےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی تنبیہ فرمائی ہے، ارشاد ہے:
مَنْ صَمَتَ نَجَا۔جوخاموش رہا وہ نجات پا گیا ۔(سنن ترمذی ،حدیث :۲۵۰۱)
موجودہ زمانے میں یہ وبا اِس قدر عام ہے کہ جس کےجی میں جو آتا ہےوہ اپنی زبان سے نکالتا ہے۔ اُسے اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتا کہ اُس کی زبان سے نکلنے والا لفظ یاکلام کسی کے دل کی تکلیف کا سامان بن رہا ہے یا خود اُس کی اپنی عاقبت خراب ہو رہی ہے ۔اِس لیے زبان کے غلط اِستعمال سے بہرحال پرہیز لازم ہےتاکہ اُس کے منفی اثرات سے انسان اور معاشرہ دونوں محفوظ ومامون رہےاور اللہ سبحانہ کی ناراضی کی جگہ اُس کی رضا حاصل رہے۔
غرض یہ کہ بابافرید گنج شکر کے اقوال وتعلیمات کی روشنی میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگرکوئی ترک دنیا،قناعت شعاری، اللہ کی محتاجگی،محبت وتعلق کی اُستواری، زبان کی حفاظت اور بہرحال رضائے الٰہی کی طلب کاجذبہ اپنے اندرپیدا کرلےاور اِس سمت میں عملی پیش قدمی کرنے کاعہدکرلے تو محض اُس کی ذاتی زندگی میں ہی صالح انقلاب نہیں آئےگا بلکہ اِنسانی معاشرےمیںناقابل تسخیر تبدیلی رونما ہوگی اور پھراُس کے مثبت اثرات سے دنیا میں ہرطرف حیات ِانسانی کی فرحت بخش کلکاریاں گونج اُٹھیں گی۔ (ان شاءاللہ)
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔