کلام

اردو شاعری، حمد، نعت، منقبت اور صوفیانہ کلام کا منتخب ذخیرہ۔

تمام کلام پر واپس جائیں

ما را بہ غمزہ کشت و قضا را بہانہ ساخت

امیر خسرو

مطالعے کا وقت: ۲ منٹ

تبصرہ کریں

ما را بہ غمزہ کشت و قضا را بہانہ ساخت

خود سوئے ما نہ دید و حیا را بہانہ ساخت

اس نے مجھے غمزہ سے مار ڈالا اور قضا کا بہانہ بنایا

اس نے میری طرف نہیں دیکھا اور حیا کا بہانہ بنایا

دستے بہ دوش غیر نہاد از رہ کرم

ما را چو دید لغزش پا را بہانہ ساخت

اس نے محبت سے دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھا

لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو لغزش قدم کا بہانہ بنایا

رفتم بہ مسجدے پئے نظارۂ رخش

دستے برو کشید و دعا را بہانہ ساخت

میں اس کے چہرے کے دیدار کے لیے مسجد کو گیا

اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا اور دعا کا بہانہ بنایا

آمد برون خانہ چوں آواز ما شنید

بخشیدن نوالہ گدا را بہانہ ساخت

جب اس نے میری آواز سنی گھر سے باہر آگیا

اس بار اس نے فقیر کو کھانا دینے کا بہانہ بنایا

خون قتیلؔ بے سر و پا را بہ پائے خویش

مالید آں نگار و حنا را بہانہ ساخت

اس نے بے سر و سامان قتیلؔ کے خون کو

اپنے قدموں میں مل لیا اور حنا کا بہانہ بنایا

کلام: امیر خسرو

گفتگو میں شامل ہوں

تبصرے

تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔

اے سی این اے کی معاونت

ایمان، علم اور خدمت کو فروغ دیں

آپ کی معاونت عبادت، تعلیم، علمی تحقیق، روحانی ثقافت اور ہمدردانہ سماجی خدمت کو مضبوط بناتی ہے۔

معاونت کریں