قوسِ حرم ابروئے تو مخدوم صابر کلیری
قوسِ حرم ابروئے تو مخدوم صابر کلیری
بینم قد دلجوئے تو مخدوم صابر کلیری
دل مست از خوشبوئے تو مخدوم صابر کلیری
قرباں شوم بر روئے تو مخدوم صابر کلیری
بر زلف و بر گیسوئے تو مخدوم صابر کلیری
وہ روئے زیبا دیکھ کر ہی ہے فنا فی اللہ جو
کیسے نہ سمجھے قبلہ و کعبہ تری درگاہ کو
سو جان سے قربان خود کو کر دیا جو ہو سو ہو
چشم دو عالم سوئے تو آئینۂ حق روئے تو
طاقِ حرم ابروئے تو مخدوم صابر کلیری
اعجاز کے سرو و سمن، تجھ پر فدا کوہ و دمن
واری ہے تجھ پر نسترن، تیری نظر سوئے چمن
کیوں امجدیؔ فکرِ زمن، ہے ذات تیری انجمن
ماوائے من، ملجائے من، مولائے من، آقائے من
من از سگاں کوئے تو مخدوم صابر کلیری
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔