شعراء

اردو اور صوفیانہ شاعری کے ممتاز شعراء، ان کا تعارف اور منتخب کلام۔

پیر نصیر الدین نصیر شاعر

شاعر کا تعارف

پیر نصیر الدین نصیر

پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (۱۴؍ نومبر ۱۹۴۹ء – ۱۳؍ فروری ۲۰۰۹ء) برصغیر کے ممتاز صوفی بزرگ، عالمِ دین، محقق، خطیب، ادیب اور ہفت زبان شاعر تھے۔ آپ گولڑہ شریف، اسلام آباد (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت پیر مہر علی شاہؒ کے پڑپوتے اور حضرت پیر سید غلام معین الدین گیلانی المعروف بڑے لالہ جیؒ کے فرزند تھے۔ ۱۹۹۷ء میں اپنے والدِ محترم کے وصال کے بعد درگاہِ گولڑہ شریف کے مسندِ سجادگی پر فائز ہوئے۔ آپ کو ’’چراغِ گولڑہ‘‘، ’’نصیرِ ملت‘‘ اور ’’سلطان الشعراء‘‘ جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ اردو، فارسی، عربی، پنجابی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں شعر کہتے تھے، اسی لیے ’’شاعرِ ہفت زبان‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ نے تصوف، اسلامی علوم، نعتیہ ادب، تحقیق اور شاعری میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی تصانیف کی تعداد ۳۶ سے زائد بتائی جاتی ہے، جن میں آغوشِ حیرت، پیمانِ شب، دیں ہمہ اوست، فیضِ نسبت، رنگِ نظام، عرشِ ناز، دستِ نظر، راہ و رسمِ منزل ہا، امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال، نام و نسب اور اسلام میں شاعری کی حیثیت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کا کلام علمی گہرائی، عشقِ رسول ﷺ، روحانیت اور عرفانی مضامین سے مالامال ہے۔ معروف قوال استاد نصرت فتح علی خان نے بھی آپ کے متعدد کلام کو قوالی کی صورت میں پیش کیا۔ آپ نے اپنی شاعری، تحریر اور خطابت کے ذریعے محبت، امن، اتحاد اور انسانیت کا پیغام عام کیا۔ ۱۷؍ صفر ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۲۰۰۹ء کو آپ کا وصال ہوا اور گولڑہ شریف میں سپردِ خاک کیے گئے۔

۱ کلام

پیر نصیر الدین نصیر کا کلام

اے سی این اے کی معاونت

ایمان، علم اور خدمت کو فروغ دیں

آپ کی معاونت عبادت، تعلیم، علمی تحقیق، روحانی ثقافت اور ہمدردانہ سماجی خدمت کو مضبوط بناتی ہے۔

معاونت کریں