ہوئے ہیں دیدہ و دل محو شان گنج شکر
ہوئے ہیں دیدہ و دل محو شان گنج شکر
زہے نصیب ملا آستان گنج شکر
وہ بھیڑ دیکھیے وہ آستان گنج شکر
نظر کے سامنے ہیں زائران گنج شکر
فلک پہ اوج ثریا نشان گنج شکر
کل اولیا میں نرالی ہے شان گنج شکر
مجھے ہی فخر نہیں ہے نیاز مندی کا
ہیں سارے جن و ملک مدح خوان گنج شکر
سدا بہار ہیں اس کے تمام غنچہ و گل
خزاں کی زد میں نہیں گلستان گنج شکر
مٹھاس شہد کی ایک ایک حرف میں ان کے
نبات و قند سے شیریں زبان گنج شکر
عجب بھیڑ ہے قصر جناں میں حشر نما
جدھر بھی دیکھو ادھر عاشقان گنج شکر
لطیف تر ہیں عروج و نزول کی باتیں
سنائے جائے کوئی داستان گنج شکر
حصول قرب الٰہی تھی منزل مقصود
رکا نہ اور کہیں کاروان گنج شکر
انہیں کے باغ کے گل صابر و نظام الدین
بسے ہیں دل میں مرے دلبران گنج شکر
جو ان کے دوست ہیں وہ سرخرو جہاں میں ہیں
ذلیل و خوار ہوئے دشمنان گنج شکر
جدھر بھی دیکھیے ہے سامنے تجلیٔ ذات
جہان طور ہے یکسر جہان گنج شکر
نصیرؔ اپنی سی کوشش قلم نے کی لیکن
تمام ہو نہ سکی داستان گنج شکر
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔