جو میرے یار کا پتا ہے نہ
جو میرے یار کا پتا ہے نہ
مجھ کو جنّت کا راستہ ہے نہ
میں کا مجھ سے تو واسطہ ہی نہیں
تو ہی تو ھے تجھے پتا ہے نہ
ہم تو جیتے ہیں ہار کے تم سے
تم کو اس کھیل کا پتا ہے نہ
یہ تو جس سے ڈراتا ہے واعظ
وہی میرا بھی تو خدا ہے نہ
لہو جس دل تلک کو جاتا ہے
تیرے گھر کا وہی پتہ ہے نہ
جام اٹھے یا وہ نظر اٹھے
نشہ اک ذاتی معاملہ ہے نہ
ہر ستم کو مداوا کہتا ہے
تیرے عاشق کا حوصلہ ہے نہ
جب گراؤ سنبھالا جاونگا
مجھ کو نسبت کا آسرا ہے نہ
کفش بردار نبی ہو فیصلؔ
اپنے اسلاف کا پتا ہے نہ
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔