کلام

اردو شاعری، حمد، نعت، منقبت اور صوفیانہ کلام کا منتخب ذخیرہ۔

تمام کلام پر واپس جائیں
غزل

جو میرے یار کا پتا ہے نہ

فیصل صدیقی

مطالعے کا وقت: ۱ منٹ

تبصرہ کریں

جو میرے یار کا پتا ہے نہ

مجھ کو جنّت کا راستہ ہے نہ

میں کا مجھ سے تو واسطہ ہی نہیں

تو ہی تو ھے تجھے پتا ہے نہ

ہم تو جیتے ہیں ہار کے تم سے

تم کو اس کھیل کا پتا ہے نہ

یہ تو جس سے ڈراتا ہے واعظ

وہی میرا بھی تو خدا ہے نہ

لہو جس دل تلک کو جاتا ہے

تیرے گھر کا وہی پتہ ہے نہ

جام اٹھے یا وہ نظر اٹھے

نشہ اک ذاتی معاملہ ہے نہ

ہر ستم کو مداوا کہتا ہے

تیرے عاشق کا حوصلہ ہے نہ

جب گراؤ سنبھالا جاونگا

مجھ کو نسبت کا آسرا ہے نہ

کفش بردار نبی ہو فیصلؔ

اپنے اسلاف کا پتا ہے نہ

گفتگو میں شامل ہوں

تبصرے

تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔

اے سی این اے کی معاونت

ایمان، علم اور خدمت کو فروغ دیں

آپ کی معاونت عبادت، تعلیم، علمی تحقیق، روحانی ثقافت اور ہمدردانہ سماجی خدمت کو مضبوط بناتی ہے۔

معاونت کریں