کلام

اردو شاعری، حمد، نعت، منقبت اور صوفیانہ کلام کا منتخب ذخیرہ۔

تمام کلام پر واپس جائیں
غزل

کیا کوئی دوسرا نظر آے

فیصل صدیقی

مطالعے کا وقت: ۱ منٹ

تبصرہ کریں

کیا کوئی دوسرا نظر آے

ہے کوئی دوسرا نظر آے

وہ جو حق ہے نظر نہیں آتا

بس وہی، وہ ہمیں نظر آے

یہ جو ما بین آئینہ ہے نفس

یہ ہٹاؤ خدا نظر آے

دہر میں اور کچھ بچا ہی نہیں

وہی وہ، جا بجا، نظر آے

جو حرم میں بھی نہی مل پاتے

دل کے بازار میں نظر آے

یار میں عکس یار کا ہی تو تھا

وہ ہمیں یار میں نظر آے

وہ جو واقف تھے سارے رازوں

اسکے دربار میں نظر آے

جو کہیں بھی نظر نہیں آتا

وہ میرے یار میں نظر آے

جن سے رازو نیاز ہوتے تھے

انکی سرکار میں نظر آے

یہ نہاں سے عیاں کا قصّہ ہے

خواب ہی خواب میں نظر آے

جن کو توفیق ہے محبت کی

انکے افکار میں نظر آے

میں کہ فیصلؔ ہوں یار کا بندہ

سب مجھے یار میں نظر آے

گفتگو میں شامل ہوں

تبصرے

تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔

اے سی این اے کی معاونت

ایمان، علم اور خدمت کو فروغ دیں

آپ کی معاونت عبادت، تعلیم، علمی تحقیق، روحانی ثقافت اور ہمدردانہ سماجی خدمت کو مضبوط بناتی ہے۔

معاونت کریں