سرکار کی عطا ہے میں خواجہ پرست ہوں
سرکار کی عطا ہے میں خواجہ پرست ہوں
مجھ پر کرم ہوا ہے میں خواجہ پرست ہوں
حق کو تلاشتا ہوں میں جاناں کے رنگ میں
دنیا کو لگ رہا ہے میں خواجہ پرست ہوں
مولا علی کا صدقہ در غوث مل گیا
حسنین کا گدا ہوں میں خواجہ پرست ہوں
یہ داغ بندگی تو توسل کا ہے نشاں
یہ ناز کر رہا ہوں میں خواجہ پرست ہوں
گنج شکر، نظام، نصیر اور قطب دیں
بندہ نواز تم ہو میں خواجہ پرست ہوں
جز کل میں گم ہوا تو وہی ذات رہ گئی
تب راز یہ کھلا کے میں خواجہ پرست ہوں
بندے کا بندہ بننا ہی ہے عین بندگی
مجھ کو سبق ملا ہے میں خواجہ پرست ہوں
دوزخ بہشت اپنی سمجھ سے ہوئے پرے
بس اتنا جانتا ہوں میں خواجہ پرست ہوں
فیصلؔ سراج دیں ہوں وہ یا دین کے معیں
یہ مہر لگ چکی ہے میں خواجہ پرست ہوں
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔