ہے فیض کا دریا آپ کا در، بابا گنج شکر با باگنج شکر
ہے فیض کا دریا آپ کا در، بابا گنج شکر بابا گنج شکر
محتاج کرم ہیں دیکھ ادھر، بابا گنج شکر بابا گنج شکر
محبوب الہی اور صابر دونوں کے وسیلے لایا ہوں
میں خواجہ سلیم کا ہوں نوکر، بابا گنج شکر بابا گنج شکر
سو بار جھکا کر سر اپنا کہتا ہے رئیسِؔ خاک بشر
در در نا پھیرا اے صاحب در، بابا گنج شکر بابا گنج شکر
تبصرے
تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ براہِ کرم احترام اور موضوع کا خیال رکھیے۔